دِیوانگی دِکھائے اور غیر موجودگی میں اس کا خِلاف کرے ۔ اَلغرض اگر مُرید اپنے پیر کی مَحبَّت میں سچا ہو گا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ضَرور اپنے پیر و مُرشِد کے فُیُوضُ و بَرکات سے مالا مال ہو گا ۔
”اِنفرادی کوشش“ کا مَطلب و اَہمیت
سُوال : ”اِنفرادی کوشش“ کسے کہتے ہیں ؟
جواب : ایک یا چند ( مثلاً دو یا تین )اسلامی بھائیوں کو الگ سے سمجھاتے ہوئے انہیں نیکی کی دعوت دینا ”اِنفرادی کوشش “کہلاتا ہے جبکہ کثیر اسلامی بھائیوں کے سامنے دَرس و بیان کرتے ہوئے انہیں نیکی کی دعوت دینا ”اِجتماعی کوشش“ کہلاتا ہے ۔ ”اِنفرادی کوشش“ تبلیغ ِدِین اور نیکی کی دعوت کی جان ہے اور یہ ہر وقت ، اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، سفر و حضر اَلغرض ہر جگہ ہو سکتی ہے اور یہ ”اِجتماعی کوشش“ سے کہیں زیادہ مُؤثر بھی ہوتی ہے ۔ بارہا دیکھا گیا ہے کہ بَرسہا برس سے اسلامی بھائی اِجتماع وغیرہ میں شریک ہوتے اور مدنی قافلوں کی تَرغیبات سُنتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود مدنی قافلوں میں سفر نہیں کر پاتے مگر جب ان پر کوئی ”اِنفرادی کوشش“ کرتے ہوئے انہیں مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی دعوت دیتا ہے تو وہ مدنی قافلوں میں سفر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ ”اِجتماعی کوشش“ کے مُقابلے میں ”اِنفرادی کوشش“ کرنا بے حد آسان بھی ہے کیونکہ کثیر اسلامی بھائیوں کے سامنے بیان کرنا ہر ایک کے بَس