Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 30:دِل جیتنے کا نُسخہ
29 - 41
 پیر و مُرشِد کے اَوصاف و کمالات جاننے کی کوشش کی جائے کہ اس سے دِل میں  پیر و مُرشِد کی مَحبَّت بڑھے گی ۔ اپنے آپ کو پیر و مُرشِد کی بدگمانی  سے ہر دَم بچانے کی کوشش کرے کیونکہ پیر پر بَدگمانی ہلاکت کا سبب ہے ۔ اگر پیر و مُرشِد  کوئی کام خلافِ سُنَّت بھی کر رہے ہوں تب بھی بَدگمانی دِل میں  نہ لائے اولاً  یہ کہ ہو سکتا ہے کہ جس عمل کو  وہ سُنَّت سمجھ رہا ہو وہ سُنَّت  بھی ہے یا نہیں اگر ہو تو یہ بھی  ہو سکتا ہے کہ پیر و مُرشِد کی توجہ نہ ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ پیر صاحب کسی عُذرِ شَرعی کی وجہ سے سُنَّت چھوڑ رہے ہوں مثلاً اگر پیر صاحب اُلٹے ہاتھ سے پانی پی رہے ہوں تو اُن سے بَدگمان نہ ہو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ پیر صاحب کے سیدھے ہاتھ میں اس قدر شدید زخم ہو جس کی وجہ سے پانی کا  گلاس اُٹھانا ممکن نہ ہو ۔ اِسی طرح اگر وہ  کھڑے کھڑے پانی پی رہے ہوں تو بھی بَدگمانی نہ  کیجیے ہو سکتا ہے کہ وہ وُضو کا  بچا ہوا پانی یا آبِ زَم زَم پی رہے ہوں کہ یہ دو پانی کھڑے ہو کر پی سکتے ہیں جیسا کہ صَدرُ الشَّریعہ ، بَدر الطَّریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِیفرماتے ہیں : لوگ مُطلقاً کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ بتاتے ہیں حالانکہ وُضو کے پانی کا یہ حکم نہیں بلکہ اس کو کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے ۔ اسی طرح آبِ زَم زَم کو بھی کھڑے ہو کر پینا سُنَّت ہے ۔ یہ دونوں پانی اس حکم سے مستثنیٰ( یعنی الگ )ہیں اور اس میں حِکمت یہ ہے کہ کھڑے ہو کر جب پانی پیا جاتا ہے وہ فوراً تمام اَعضاء  کی طرف سَرایَت کر جاتا ہے ( یعنی تمام اَعضاء