اِعراب لگانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ بعض اسلامی بھائی فیضانِ سُنَّت یا رَسائِل سے دَرْس و بیان کرتے ہوئے اَلفاظ پر اِعراب ہونے کے باوجود غَلَط پڑھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ بَرسوں سے ذہن میں بیٹھے ہوئے غَلَط اِعراب پر مُشتمل اَلفاظ ادا کرنے کی عادت بن چکی ہوتی ہے لہٰذا دَرس و بیان کی تیاری کے وقت مُطالَعہ کرتے ہوئے اَلفاظ پر لگائے گئے اِعراب کے مُطابِق ہی پڑھتے ہوئے تَلَفُّظ دُرُست کرنے کی کوشش کیجیے ۔
بیسیوں اَلفاظ ایسے ہیں جن پر حَرکت کی تبدیلی سے معنیٰ میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے ۔ صِرف اُردو میں بولے جانے والے چند اَلفاظ مُلاحظہ کیجیے جن کے تَلَفُّظ میں عموماً لوگ غَلَطی کرتے ہیں مثلاً ہمارے ہاں عام طور پر بولا جاتا ہے ” فُلاں باہِر کھڑا ہے ۔ “حالانکہ باہِر کا معنیٰ روشن ہوتا ہے اصل تَلَفُّظ ”باہَر“ ہے ۔ اسی طرح ”تبارَک وتعالیٰ“ کو ”تبارِک و تعالیٰ“ ، عیدمبارَک کو عید مبارِک ، مُرشِد کو مُرشَد ، سیِّد کو سیَّد ، مَدَنی کو مَدْنی ، میِّت کو میَّت ، قِیامت کو قَیامت ، دُرُست کو دَرُست ، غَلَط کو غَلْط ، حُکْم کو حُکَم ، صَبْر کو صَبَر ، عِلْم کو عِلَم اورشُکْر کو شُکَر پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح ناموں میں عابِد کو عابَد ، واحِد کو واحَد اور واجِد کو واجَد کہتے ہیں ۔
پیر و مُرشِد کی مَحبت حاصِل کرنے کا طریقہ
سُوال : مُرید کی بَقا اور اِستقامت محبتِ مُرشِد میں ہے تو یہ اِرشاد فرمائیے کہ محبتِ مُرشِد کیسے حاصِل کی جائے ؟
جواب : اپنے جامع شَرائط پیر و مُرشِد کی مَحبَّت حاصِل کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنے