Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 30:دِل جیتنے کا نُسخہ
26 - 41
 اِرشاد فرماتے ہیں : ) ”ایک مرتبہ بارہویں شریف کے موقع پر مُوئے مبُارَک کی زیارت کروائی جا رہی تھی اور آخر میں صلوٰۃ و سَلام پڑھا گیا تو میں بھی دِیگر بچوں کی طرح اس موقع پر آگے چلا گیا ۔ صلوٰۃ و سَلام کے بعد اذانِ ظہر ہوئی پھر جب نماز کے لیے صفیں بننا شروع ہوئیں تو میں پہلی صَف میں کھڑا ہو گیا ۔ اتنے میں ایک بڑے میاں آئے ،  انہوں نے بڑے زور سے میرا بازو پکڑا اور ڈانٹ کر مجھے وہاں سے نکال دیا ۔ مجھے اس کا بَہُت صَدمہ ہوا اور میری سخت دِل آزاری ہوئی مگر پھر بھی اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے کرم سے میں نے مسجد نہیں چھوڑی وَرنہ ایسے حالات میں شیطان بہکا  کر مسجد سے ایسا دُور کر دیتا ہے کہ شاید بندہ زندگی بھر مسجد کا کبھی رُخ نہ کرے ۔ “  
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اِس واقعہ سے یہ دَرس ملا کہ اگر  بچے مَساجد میں آئیں تو ان کو جھاڑ کر مَساجد سے نکالنا نہیں چاہیے ، اگر کوئی غَلَطی کریں تو ان کو اَحسن طریقے سے پیار و محبت کے ساتھ سمجھا دیجیے تاکہ وہ آئندہ اس سے باز رہیں ۔ اگر آپ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر مسجد سے باہر نکال  دیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ان کا دِل ٹوٹ جائے اور  پھر وہ کبھی بھی مسجد کی طرف نہ آئیں ۔ 
چھوٹے بچوں کو  مسجد میں لانے کا حکم 
سُوال : کیا چھوٹے بچوں کو بھی مسجد میں لا سکتے ہیں ؟ 
جواب : اتنا چھوٹا بچّہ جس سے نَجاست ( یعنی پیشاب وغیرہ کر دینے ) کا خَطرہ ہو اور پاگل کو