Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 30:دِل جیتنے کا نُسخہ
24 - 41
 میں اور دِیگر بچے مل کر لوگوں کو نمازوں کے لیے گھروں سے بُلانے جاتے تھے ۔ مجھے بچپن  ہی سے نعتیں اور دُرُود و سَلام پڑھنے کا بہت زیادہ شوق تھا ۔ ہم اپنے محلے کی بادامی مسجد ( گوشت مارکیٹ کھارادر اولڈ بابُ المدینہ  کراچی ) میں نماز پڑھا کرتے تھے جس سے اذان سے قبل دُرُود و سَلام کی آوازیں  آتی اور دِل کو بھاتی تھیں ۔ ہر سال بارہ رَبیعُ الاوَّل کے پُرمَسَرَّت موقع پر  دھوم دھام کے  ساتھ  جَشنِ وِلادت مَنایا جاتا اور مُوئے مُبارَک کی زیارت بھی کروائی جاتی تو میں بڑے جوش و خروش سے اس میں شِرکت کیا کرتا تھا ۔ اسی طرح  ہر سال مُبارَک اَیَّام مثلاً محرمُ الحرام میں دس دن ، رَبیعُ الآخر میں گیارہویں شریف کی نسبت سے گیارہ دن  اور رَبیعُ الاوَّل میں بارہویں شریف کی نسبت سے بارہ دن بیانات کا سِلسلہ ہوتا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  دَسویں ، گیارہویں ، بارہویں اور دِیگر مُبارَک مَواقع پر ہونے والے بیانات کی مِٹھاس  اور نیاز کی شیرینی میرے دِل میں اُترتی گئی ۔ جمعۃ المبارک اور دِیگر مَواقع کے اِختتام پر صلوٰۃ و سَلام پڑھا جاتا تو میں بھی دِیگر بچوں کے ساتھ آگے پہنچ جاتا اور صلوٰۃ و سَلام پڑھنے والے کے قریب کھڑا ہو جاتا ۔ مجھے نعت شریف پڑھنے کا دِیوانگی کی حَد تک شوق تھا اور نعت شریف پڑھنے کے لیے محافلِ نعت وغیرہ میں شِرکت کیا کرتا تھا ۔ یوں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  مجھے بچپن ہی سے اچھی صحبت اور اچھا ذہن نصیب ہوا ۔ 
پھررَفتہ رَفتہ شُعُور بڑھتا گیا اور مسلمانوں کی بِگڑی ہوئی حالتِ زار ، گُناہوں کی