شروع سے ہی یہ ذہن بنا ہوا ہے کہ میں مَدارس کا کھانا نہیں کھاتا اور نہ ہی مَدارس کی کوئی چیز مثلاً ٹیلی فون وغیرہ اپنے ذاتی اِستعمال میں لاتا ہوں ۔ اِبتداءً جب ہمارے مدنی قافلے مَدارس سے ملحقہ مَساجد میں ٹھہرتے تو اس وقت بھی میں مَدارس کا کھانا کھانے سے بَہُت زیادہ کتراتا تھا کیونکہ عموماً مَدارس زکوٰۃ ، صَدقات اور خیرات وغیرہ پر چلتے ہیں ۔ ہم نے مدنی قافلہ میں سفر کر کے کسی پر اِحسان تو نہیں کیا بلکہ اپنی آخرت بہتر بنانے کے لیے راہِ خدا میں سفر اِختیار کیا ہے ۔ جب گھر میں ہم اپنا کھاتے ہیں تو پھر مَدَنی قافلوں میں کیوں نہ اپنے پاس سے کھائیں ۔ عُرف میں جن لوگوں کو مَدارس کا کھانا کھانے کی اِجازت ہے وہ کھا سکتے ہیں مگر میں پھر بھی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ کا کھانا نہیں کھاتا ۔ آپ بھی اپنے اَندر اِخلاص اور قناعت پیدا کیجیے ، جب آپ مخلص اور قانِع ( یعنی قناعت کرنے والے ) بنیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دِین کا کام بھی زیادہ اچھے طریقے سے کر سکیں گے اور آپ کی زبا ن میں تاثیر بھی پیدا ہو گی ۔
مَدَنی کام کا آغاز کب اور کیسے ہوا ؟
سُوال : دعوتِ اسلامی کے مدنی کام کا آغاز کب اور کیسے ہوا ؟
جواب : )شیخِ طریقت ، اَمیرِ اہلسنَّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : )اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ جب سے مجھے شُعُور آیا ہے اُس وقت سے ہی نمازیں پڑھنے اور مَساجد میں جانے کا شوق تھا ،