مُسکراہٹ رکھیں ۔ بالکل روئی کی طرح نرم اور بَرف کی طرح ٹھنڈے ہو جائیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کے ماتحت اسلامی بھائی آپ سے متُأثر ہوں گے اور مَدَنی کام میں بھی اِضافہ ہو گا ۔ اگر آپ سخت طبیعت اور غصّے والے ہوں گے تو آپ کے سبب دینِ اِسلام کے عظیم مَدَنی کام کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
اللہ اس سے پہلے اِیماں پہ موت دیدے
نقصاں مِرے سبب سے ہو سُنَّتِ نبی کا ( وسائلِ بخشش )
اگر کوئی اپنا غیرمسلم ہونا ظاہر کرے تو کیا کرنا چاہیے ؟
سُوال : بعض اوقات مَدَنی قافلے میں اِنفرادی کوشش یا نیکی کی دعوت دینے کے بعد سامنے والا کہہ دیتا ہے کہ میں غیر مُسلِم ہوں ۔ اُس وقت ہمارا مبلغ خاموش ہو جاتا ہے ۔ اُس وقت مبلغ کو کیا کرنا چاہیے ؟
جواب : غیرمُسلِم کو اِسلام کی دَعوت دینا ہر ایک کا کام نہیں لہٰذا اِنفرادی کوشش یا نیکی کی دعوت دینے کے دَوران اگر کوئی اپنے غیر مُسلِم ( یہودی ، عیسائی اور ہندو وغیرہ ) ہونے کا اِظہار کرے تو مبلغ کو چاہیے کہ ہِمَّت کر کے نَرمی کے ساتھ اتنا کہہ دے کہ ہم آپ کو اِسلام کی دَعوت پیش کرتے ہیں آپ اِسلام قبول کر لیجیے ۔ اگر وہ کہے کہ میں مُسلمان ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ تو کہہ دیجیے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے جنَّت ملے گی ۔ اب اگر وہ کہے کہ میں مُسلمان ہونا چاہتا ہوں تو فوراً اسے پہلے والے مذہب سے توبہ کروا کر کلمہ پڑھا دیجیے ۔ کسی عالِمِ دِین ، پیر