Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 30:دِل جیتنے کا نُسخہ
19 - 41
اور بیمار اسلامی بھائیوں کی عِیادَت  کرنا بآسانی ممکن تھا لیکن اب حالات کے پیشِ نظر یہ ممکن نہیں رہا ۔ اب سینکڑوں ، ہزاروں اسلامی بھائی مُعتکف ہوتے ہیں ہر ایک سے اِنفرادی طور پر پوچھنا اور ایک ایک  کے پاس جا  کر مِزاج پُرسی کرنا بَہُت مُشکل ہے اَلبتَّہ اب بھی مجلس کی طرف سے یہ تَرکیب ہے کہ جن بیمار اسلامی بھائیوں کے نام وغیرہ ملتے ہیں اُن کی طرف غمخواری کے لیے میرے مکتوب رَوانہ کیے جاتے ہیں ۔ 
ماتحت اسلامی بھائیوں کے ساتھ گھل مِل کر رہیں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  میں اسلامی بھائیوں کے ساتھ اس طرح گُھل مِل جاتا کہ  لوگ مجھے پہچان بھی نہ پاتے تھے کہ ”الیاس قادری“ کون ہے ؟ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ لوگ مجھ سے ہی  پوچھتے تھے  کہ  ”الیاس قادری“ کب آ رہا ہے ؟ان واقعات کو بیان کرنے  کا مَقصد یہ ہے کہ اَمیرِ قافلہ یا  نِگرانِ حلقہ مُشاورت اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کے ساتھ گھل مِل کر رہیں اور اپنے شُرکا  کا خُوب خیال رکھیں ۔ اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عِیادَت کریں ، جہاں تک ممکن ہو اور کوئی  مانِعِ شَرعی نہ ہو تو ایک ایک سے مِزاج پُرسی کریں تاکہ  کسی کے  دِل میں یہ بات  نہ  آئے  کہ میری طبیعت خَراب ہے اور ان کو معلوم بھی ہے  اس کے باوجود  مجھے نہیں پوچھا ۔ سبھی اسلامی بھائیوں اور بالخُصُوص اَمیرِ قافلہ اور نِگران اسلامی بھائیوں کو چاہیے کہ وہ مِلنساری اور غمخواری کا ذہن بنائیں اور اپنے چہرے پر