دِیگر اَعضاء کا قُفلِ مدینہ لگانے والا ، اسلامی بھائیوں کا خیر خواہ اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ یکساں تَعَلُّقات رکھنے والا ہونا چاہیے ۔ امیرِقافلہ ایسا ہو جو خود تکالیف اُٹھائے لیکن اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کو راحت پہنچائے ۔ گاڑی میں سُوار ہوتے وقت پہلے سب کو بااِصرار بٹھائے پھر آخر میں خُود بیٹھے ، اگر جگہ نہ ملے تو کھڑا ہو جائے ۔ ایسا نہ ہو کہ پہلے سوار ہو کر خُود سیٹ سنبھال لے اور اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کی پَروا ہی نہ کرے ۔ مدنی قافلے کے دَوران اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کی خُوب خُوب خِدمت کرے اور ہر طرح سے ان کو راحت پہنچائے ۔ واپسی میں تمام شُرکائے قافلہ سے اِنفرادی طور پرپاؤں پکڑ کر ( جبکہ کوئی مانعِ شَرعی نہ ہو تو ) مُعافی مانگے ۔ اس طرح شُرکائے مَدَنی قافلہ پر بہت اچھا اثر پڑے گا ۔ ( شیخِ طریقت ، اَمیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جب میں مدنی قافلوں میں سفر کرتا تھا تو پہلے شُرکائے قافلہ کو بس میں سُوار کرتا پھر آخر میں خُود سوار ہوتا ۔ اگر بس میں سیٹ نہ ملتی تو اسلامی بھائیوں کے قدموں میں نیچے بیٹھ جاتا ، اگر سوزوکی وغیرہ میں کہیں جانا پڑتا تو اسلامی بھائیوں کو بٹھانے کے بعد اگر بیٹھنے کی جگہ نہ ملتی تو کھڑا ہو جاتا ۔ دعوتِ اسلامی کے اَوائل میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی شُرکائے مَدَنی قافلہ کی خُوب خِدمت کرنے کا موقع ملا ۔ شروع میں حِفاظتی اُمُور کی پابندیاں نہ تھیں اس لیے مدنی قافلوں میں سفر ، اِجتماعی اعتکاف کے حلقوں میں شِرکت