Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 30:دِل جیتنے کا نُسخہ
16 - 41
اِشاروں میں ان کو مسجد سے باہَر جوتے اُتارنے کا طریقہ سمجھایا اور پریکٹیکل کر کے بھی دکھایا کہ مسجد کے اس حصّے میں جُوتے نہیں پہنتے ، پھر اُن کو قریب ہی جنگل میں درخت کی ٹہنیوں کو توڑ کر مِسواک بنانا اور اِشاروں سے کرنا سکھایا کہ یہ سُنَّتِ پیغمبر ہے ( وہ لوگ سرکارِنامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو صِرف پیغمبر کہتے تھے ) ۔ چند دنوں کے بعد وہاں اُردو اور اِنگلش بولنے اور سمجھنے والے کچھ مُسلمان بھی مِل گئے ۔ پھر اُن کے ذَریعے اُس علاقے والوں پر مَزید کوشش کی گئی تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  بعض کُفّار بھی مُسلمان ہو کر دائرۂ اِسلام میں داخِل ہوئے ۔ آہستہ آہستہ مدنی کاموں میں ترقی ہوتی گئی ۔ پھر مدنی کاموں کو مَزید بڑھانے کے لیے وہاں کے ایک مَقامی اسلامی بھائی کے گھر ہفتہ وار اِجتماع بھی شروع کر دیا ۔ “ معلوم ہوا کہ اگر مدنی کام کرنے کا جَذبہ ہو تو حِکمتِ عملی کے ساتھ دُنیا کے ہر خطّے میں مَدَنی کام کیاجا سکتا ہے ۔     
مقبول جہاں بھر میں ہو دعوتِ اسلامی
                       صَدقہ تجھے اے ربِّ غفّار مدینے کا	( وسائلِ بخشش )
بغیر کیے مدنی اِنعامات پر عمل کا ایک قاعدہ 
سُوال : ایسے مدنی اِنعامات جن پر مدنی قافلوں میں سفر  کی وجہ سے عمل نہیں ہو سکتا مثلاً والدین کے ہاتھ چُومنا ، گھر میں دَرس دینا  وغیرہ تو  کیا دَورانِ    مَدَنی قافلہ ان مدنی اِنعامات پر عمل مانا جائے گا ؟