بھرا لہلہاتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔
لوگ زبان نہ سمجھتے ہوں تو مدنی کام کیسے کریں ؟
سُوال : اگر مدنی قافلہ ایسی جگہ سفر کرے جہاں کے مَقامی لوگ نہ ہماری زبان سمجھتے ہوں اور نہ ہمیں ان کی زبان کی سُوجھ بُوجھ ہو تو وہاں مدنی کام کیسے کیا جائے ؟
جواب : اگر مدنی کام کرنے کا جَذبہ ہو تو راہیں خُود بخود کُھل جاتی ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اَسباب پیدا فرما دیتا ہے ۔ کوئی حِکمتِ عملی اپنا کران کو مانوس کر کے اپنے قریب کیجیے ۔ پھر وہاں ایسے اَفراد تلاش کیجیے جو کچھ نہ کچھ آپ کی زبان کی سمجھ بُوجھ رکھتے ہوں ، اس طرح ان کے ذَریعے آپ کو مدنی کام کرنے میں کامیابی ہو جائے گی اور مدنی کام کا سِلسلہ شروع ہو جائے گا ۔ آپ کی تَرغیب و تحریص کے لیے ایک مدنی بہار پیشِ خدمت ہے چنانچہ ”ایک بار دعوتِ اسلامی کا ایک مَدَنی قافلہ چائنہ پہنچا ۔ وہاں کے لوگ مدنی قافلے والوں کی زبان نہیں سمجھتے تھے اور نہ ہی مدنی قافلے والوں کو اُن کی زبان سمجھ آتی تھی ۔ مدنی قافلے والوں نے بَہُت سوچا کہ ان کو کیسے ترکیب میں لیا جائے ، بِالآخر ایک اسلامی بھائی جو خُوش اِلحان نَعت خواں بھی تھے انہوں نے قَصیدۂ بُرْدَہ شریف پڑھنا شروع کیا تو وہاں کے لوگ مسجد میں اِکٹھے ہو گئے ۔ قَصیدۂ بُرْدَہ شریف سُن کر بعضوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ عِلمِ دِین سے دُوری کا یہ حال تھا کہ وہ لوگ جوتے پہن کر مسجد میں آتے تھے ۔ مِسواک شریف کا کوئی تصوُّر ہی نہ تھا ۔ مدنی قافلے والوں نے اِشاروں ہی