Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 30:دِل جیتنے کا نُسخہ
14 - 41
 جہاں پر سارے سندھی اسلامی بھائی تھے ، نہ اُن کو ہماری بات  سمجھ آتی اور نہ ہی  ہمیں اُن کی بات  سمجھ آتی تھی ، اس وجہ سے ہم  تنگ آ کر واپس آ گئے ہیں ۔ میں نے ان سے اظہارِ اَفسوس کیا اور کہا کہ آپ کو مدنی قافلے میں سفر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رِضا پانے ، ثواب کمانے اور اپنی قبر و آخرت کو بہتر بنانے کے لیے کرنا تھا لہٰذا آپ اپنا پورا وقت سیکھنے سکھانے میں صَرف کرتے ۔ پھر ان اسلامی بھائیوں کو اِحساس ہوا اور وہ  دوبارہ مدنی قافلے میں راہِ خُدا  کے مُسافِر بن گئے ۔ 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ اپنی تربیت کا مدنی ذہن لے کر مَدَنی قافلے میں سفر کریں گے تو مَقامی لوگ کسی بھی قوم سے تعلق رکھنے والے اور کوئی بھی زبان بولنے والے ہوئے تو آپ کو پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ ہماری یہ ذِمَّہ داری نہیں کہ جہاں ہمارا  مَدَنی قافلہ سفر کرے وہاں کے لوگوں کو سکھا کر ہی آنا ہے ، ہمارا کام کوشش کرنا ہے اَلبتَّہ ایسا بھی نہیں  ہونا چاہیے کہ آپ مسجِد سے باہَر ہی نہ نکلیں کہ یہ دوسری زبان بولتے ہیں ان کو ہماری اور ہمیں ان کی کیا سمجھ آئے گی؟ ہمارے صحابۂ کرام و بُزرگانِ دِین رِضْوَانُ اللّٰہِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بھی دُنیا کی ساری زبانیں نہیں سیکھی تھیں لیکن اِسلام کا پیغام لے کر دُنیا کے مختلف مَمالک  کا سفر کیا اور دِینِ اسلام کو دُنیا کے گوشے گوشے میں پہنچایا ۔ یہ انہیں نُفُوسِ قُدسیّہ کی کاوِشوں اور قُربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  دُنیا بھر میں اِسلام کی روشنی پھیلی ہوئی ہے اور گُلشنِ اِسلام ہرا