دِل سوزی کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعا بھی کرتے رہیے کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میری زبان میں تاثیر عطا فرما اور میری نیکی کی دعوت میں پائی جانے والی خامیوں کو دُور فرما کر لوگوں کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ آپ کا یہ کُڑھنا اور دِل سوزی کے ساتھ دُعائیں کرتے رہنا ایک نہ ایک دن ضَرور رَنگ لائے گا اور آپ اپنی آنکھوں سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے مدنی نَتائج دیکھ لیں گے ۔
ہمارے بُزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن مُخلِص ہونے کے ساتھ ساتھ عِلم وعمل اور حُسنِ اَخلاق کے پیکر بھی ہوا کرتے تھے ، ان کی زبانیں ایسی پُرتاثیر ہوتیں کہ جس کو بھی نیکی کی دعوت دیتے ان کی بات تاثیر کا تیر بن کر سامنے والے کے دِل میں پَیْوَست ہو جاتی ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے بُزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی مَساعیٔ جمیلہ( عُمدہ کوششوں )سے کُفّار کلمہ پڑھ کر دائرۂ اِسلام میں داخِل ہو جاتے ۔
جس وقت سُنَّتوں کا میں کرنے لگوں بیاں
ایسا اَثر ہو پیدا جو دِل کو ہِلا سکے
میری زَبان میں وہ اَثر دے خُدائے پاک
جو مصطفے ٰ کے عشق میں سب کو رُلا سکے ( وسائلِ بخشش )
مَدَنی قافلے میں سفر کس نیت سے کیا جائے ؟
سُوال : مدنی قافلوں میں سفر سیکھنے سکھانے کی نیت سے کرنا چاہیے یا اس نیت سے کہ دیگر مسلمانوں تک نیکی کی دعوت پہنچانا ہماری ذِمَّہ داری ہے ؟