تھے ، مدنی قافلوں کی بَرکت سے دعوتِ اسلامی ترقی کے زینے طے کرتی رہی اور یہ مَدارسُ المدینہ و جامعاتُ المدینہ وجود میں آئے ہیں ۔ دَرسِ نظامی بھی کیجیے ، فرض عُلُوم کے حُصُول کے لیے ذاتی مُطالَعہ بھی کیجیے اور اپنے مدنی مقصد ”مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ “کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی اِصلاح کی کوشش کے ساتھ ساتھ ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کے لیے مدنی قافلوں میں سفر بھی کیجیے ۔
زبا ن میں تاثیر کیسے پیدا ہو؟
سُوال : زبان میں ایسی تاثیر کیسے پیدا ہو کہ ہم جس کو بھی مدنی قافلے کی دعوت دیں وہ راہِ خُدا کا مُسافِر بن جائے ؟
جواب : زبان میں تاثیر پیدا کرنے کے لیے اِخلاص شَرط ہے ۔ ہمارا کام اِخلاص کے ساتھ اَحسن انداز میں دوسرے اسلامی بھائیوں تک نیکی کی دعوت پہنچانا ہے ، انہیں عمل کی توفیق دینے والی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات ہے ۔ اگر آپ کسی کو نیکی کی دعوت پیش کریں ، مدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفر کرنے کا ذہن دیں لیکن وہ تیار نہ ہو تو آپ اپنا دِل ہرگز چھوٹا نہ کیجیے ، نہ ہی سامنے والے کے بارے میں اپنے دِل میں یہ بات لائیے کہ بہت ڈھیٹ ہے ، ٹَس سے مَس نہیں ہوتا ، اس کا دِل پتھرسے بھی زیادہ سخت ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ اسے اپنے اِخلاص کی کمی تصوُّر کرتے ہوئے رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لیے کوشش جاری رکھیے اور