جُدائیاں پیدا کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہم تو آپس میں اِتفاق و محبت کے ذَریعے جوڑ پیدا کرنے کے لیے آئے ہیں جیسا کہ مولانا روم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَیُّوْم فرماتے ہیں :
تُو بَرائے وَصل کَردن آمدی
نے بَرائے فَصل کَردن آمدی ( 1)
یعنی تو جوڑ پیدا کرنے کے لیے آیا ہے ، توڑ پیدا کرنے کے لیے نہیں آیا ۔
اگر ہم اپنی صفوں میں اِتحاد پیدا کریں گے تو بہت اچھے طریقے سے زیادہ سے زیادہ دِین کا کام کر سکیں گے ۔ باہمی محبت و اِتحاد سے جو کام ہو سکتا ہے وہ اکیلے رہ کر نہیں ہو سکتا ۔ پھر فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کر ان کے دَرمیان صُلح میں سَبقت لے جانے کا جَذبہ پیدا کر کے انہیں آپس میں مِلوا دے ۔ حتَّی الاِمْکان کسی فریق کو دوسرے کے خِلاف بولنے نہ دے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ، جب ایک بولے گا تو دوسرا بھی اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے بولے گا، یوں آپس میں بحث و مباحثہ ہو کر بسا اوقات بات بنتے بنتے بگڑ جاتی ہے اور پھر ان کے دَرمیان صلح کروانا اِنتہائی مُشکل ہو جاتا ہے ۔ آپس کی ناراضیوں، نااتفاقیوں اور ناچاقیوں سے بچتے رہنا چاہیے کہ ان کی وجہ سے دعوتِ اسلامی کے عظیم مدنی کام کو بھی شَدید نُقصان پہنچتا ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں نرمی اپنانے ، ایک دوسرے
________________________________
1 - مثنوی مولوی معنوی ، ۲ / ۱۷۳ مرکزالاولیا لاہور