Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
9 - 43
  جُدائیاں پیدا کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہم تو آپس میں اِتفاق و محبت کے ذَریعے جوڑ پیدا کرنے کے لیے آئے ہیں   جیسا کہ مولانا روم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَیُّوْم فرماتے ہیں  : 
تُو بَرائے وَصل کَردن آمدی
          نے بَرائے فَصل کَردن آمدی	 (  1)
یعنی تو جوڑ پیدا کرنے  کے لیے آیا ہے ، توڑ پیدا کرنے کے لیے نہیں آیا ۔ 
اگر ہم اپنی صفوں میں اِتحاد پیدا کریں گے تو بہت اچھے طریقے سے زیادہ سے زیادہ دِین کا کام کر سکیں گے ۔  باہمی محبت و اِتحاد سے جو کام ہو سکتا ہے وہ اکیلے رہ کر نہیں ہو سکتا ۔  پھر فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کر ان کے دَرمیان صُلح میں سَبقت لے جانے کا جَذبہ پیدا کر کے انہیں آپس میں مِلوا دے ۔  حتَّی الاِمْکان کسی فریق کو دوسرے کے خِلاف بولنے نہ دے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ، جب ایک بولے گا تو دوسرا بھی اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے بولے گا، یوں آپس میں بحث و مباحثہ  ہو کر بسا اوقات بات بنتے بنتے بگڑ جاتی ہے اور پھر ان کے دَرمیان صلح کروانا اِنتہائی مُشکل ہو جاتا ہے ۔ آپس کی ناراضیوں، نااتفاقیوں  اور ناچاقیوں سے بچتے رہنا چاہیے کہ ان   کی وجہ سے دعوتِ اسلامی کے عظیم مدنی کام کو بھی شَدید نُقصان پہنچتا ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں  نرمی اپنانے ، ایک دوسرے 



________________________________
1 -   مثنوی مولوی  معنوی ، ۲ / ۱۷۳ مرکزالاولیا لاہور