Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
8 - 43
واہ رے حلم کہ اپنا تو جگر ٹکڑے ہو
پھر بھی اِیذائے ستم گر کے رَوا دار نہیں
ہماری حالت یہ ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے مسلمان بھائیوں سے ناراض  ہو جاتے ہیں، اس میں سرا سر  نُقصان اور شیطان کی خُوشی کا سامان ہے ۔  باہمی  رَنجشوں اور ناچاقیوں سے تنگ آ کر بالآخر فریقین میں سے کسی ایک کے مدنی ماحول سے دُور ہونے ، نمازیں چھوڑنے اور دِیگر گناہوں میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ  بد مذہبوں کی صحبت اِختیار کرنے اور عَقائد بگڑنے کا بھی اَندیشہ ہوتا ہے لہٰذااگر بتقاضائے بَشَرِیَّت کسی سے  کوئی غَلَطی کوتاہی صَادِر ہو جائے تو اسے مُعاف کر دینا چاہیے ۔  یقیناً کوئی بھی جُرم  ناقابلِ مُعافی نہیں ہوتا ۔  اگر کسی اِنسان سے مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کُفر بھی سَرزد  ہو جائے تو وہ بھی  سچی توبہ سے مُعاف ہو جاتا ہے ۔  
فریقین کو صُلح کے فَضائل اور آپس کے اِختلافات کے سبب پیدا ہونے والے  لڑائی جھگڑے ، بُغض و حسد ، گالی گلوچ ، بے جا غصّے اور کینے وغیرہ کے دِینی و دُنیوی نُقصانات بیان کیے جائیں ۔  ظاہری صورت کو سُنَّتوں کے سانچے میں ڈھالنے اور سَنوارنے کے ساتھ ساتھ  اپنے باطِن کو بھی سَنوارنے اور اس کی اِصلاح کرنے کاذہن دیاجائے ۔  فریقین کے جَذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے  انہیں اس طرح سمجھائے کہ اگر آپ کو ان سے تکلیف پہنچی ہے تو انہیں بھی آپ سے رَنج پہنچا ہو گا ۔  ہم اس دُنیا میں ایک دوسرے کو رَنج وغم دینے اور