کو مَنانے اور لڑائی جھگڑے سے خود کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
تُو نرمی کو اپنانا جھگڑے مٹانا رہے گا سَدا خوشنما مَدنی ماحول
تُو غصّے جھڑکنے سے بچنا وَگرنہ یہ بدنام ہو گا تِرا مَدنی ماحول
صلح کروانے کیلئے خلافِ واقع بات کہنا
سُوال : دو مسلمانوں میں صُلح کروانے کے لیے خلافِ واقع بات کہنا کیسا ہے ؟
جواب : دو مسلمانوں میں صُلح کروانے اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے خلافِ واقع بات ( یعنی جھوٹی بات ) کہہ سکتے ہیں مثلاً ایک کے سامنے جا کر اس طرح کہنا کہ وہ تمہیں اچھا جانتا ہے ، تمہاری تعریف کرتا ہے یا اس نے تمہیں سلام کہا ہے پھر اسی طرح دوسرے کے پاس جا کر بھی اسی قسم کی خلافِ واقع باتیں کرے تا کہ ان دونوں میں بغض و عداوت کم ہواورصُلح ہوجائے ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اَسماء بنْتِ یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے رِوایت ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے : تین باتوں کے سِوا جھوٹ بولنا جائز نہیں، خاوند اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے کوئی بات کہے ، جنگ کے موقع پر جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صُلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا ۔ ( )
صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی فرماتے
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب البر والصلة ، باب ما جاء فی اصلاح ذات البین ، ۳ / ۳۷۷، حدیث : ۱۹۴۵ دار الفکر بیروت