Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
7 - 43
وَ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) ( پ۲۷، الذّٰریٰت : ۵۵ )
ترجمۂ کنز الایمان : اورسمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں  کو فائدہ دیتا ہے  ۔ 
صلح کروانے کا طریقہ
سُوال :  مَدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی اگر کسی وجہ سے آپس میں ناراض ہو جائیں تو ان میں صُلح کیسے کروائی جائے ؟ 
جواب : مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا کروا کر ان کی آپس میں پُھوٹ ڈَلوانا اور نفرتیں بڑھانا یہ شیطان کے اَہم اَہداف میں سے ہے ۔  بسا اوقات شیطان مَدَنی ماحول سے وَابستہ نیکی کی دعوت عام کرنے والوں کے دَرمیان پُھوٹ ڈلوا کر  بُغض و حَسد کی ایسی دیوار کھڑی کر دیتا ہے جسے صُلح کے ذَریعے مسمار کرنا اِنتہائی مُشکل ہوتا ہے ۔  صُلح کروانے والے کو چاہیے کہ وہ  صُلح کروانے سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کامیابی کی  دُعا کرے پھر ان  دونوں کو اَلگ اَلگ بٹھا کر ان کی شِکایات سُنے اور اَہم نِکات لکھ لے ۔  ایک فریق کی بات سُن کر کبھی بھی فیصلہ نہ کرے کہ  ہو سکتا ہے  جس کی بات اس نے  سُنی وہی غَلَطی پر ہو، اس طرح  دوسرے فریق کی حَق تلفی کا قَوی اِمکان ہے ۔  فریقین  کی بات سننے کے بعد انہیں صُلح پر آمادہ کرے اور سمجھائے کہ ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مُبارَک زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِیذا دینے والوں، سَتانے والوں بلکہ اپنے جانی دُشمنوں کو بھی مُعاف فرما یا ہے ۔