Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
6 - 43
 موتیوں سے آراستہ ہیں یہ شہر اور عُمدہ مَحلَّات کس پیغمبر یا صِدّیق یا شہید کے لیے ہیں؟اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا :  یہ اُس کے لیے ہیں جوان کی قیمت ادا کرے ۔  بندہ عرض کرے گا : ان کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے ؟اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : تُو ادا کر سکتا ہے ۔   وہ عرض کرے گا :  کس طرح ؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : اِس طرح کہ تُو اپنے بھائی کے حُقُوق مُعاف کر دے ۔  بندہ عرض کرے گا : یَااللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں نے سب حُقُوق مُعاف کیے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑو اور دونوں اِکٹھے جنَّت میں چلے جاؤ ۔  پھر سرکار ِنامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور مخلوق میں صُلح کرواؤ کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی بروزِ قِیامت مسلمانوں میں صُلح کروائے گا ۔  (1  )  
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِن آیات و رِوایات سے صُلح کروانے کی اَہمیت اور اس کے فَضائل وبَرکات  معلوم ہوئے  لہٰذا جب کبھی مسلمانوں میں ناراضی ہو جائے تو ان کے دَرمیان صُلح کروا کر یہ فَضائل و بَرکات حاصِل کرنے چاہئیں ۔  بعض اوقات شیطان یہ  وَسوسہ ڈالتا ہے کہ انہوں نے صُلح پر آمادہ ہونا ہی نہیں لہٰذا انہیں سمجھانا بیکار ہے ۔  یاد رکھیے ! مسلمانوں کو سمجھانا بیکار نہیں بلکہ مفید ہے جیسا  کہ خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ   کا فرمانِ عالیشان ہے : 



________________________________
1 -    مُسْتَدْرک حاکم، کتاب الاھوال، باب اذا لم یبق من الحسنات...الخ ، ۵ / ۷۹۵، حدیث :  ۸۷۵۸  دار المعرفة  بیروت