جواب : دعوتِ اِسلامی کے نَعت خواں کو مَرحُوم نگرانِ شوریٰ حاجی محمد مُشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْبَارِی جیسا ہونا چاہیے کہ یہ زَبَردَست نَعت خواں ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مُبَلِّغ بھی تھے ، انہوں نے بِلا مُبَالغہ لاکھوں لوگوں کو مُتأثر کیا ۔ ہر نعت خواں کو حاجی محمد مشتاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالرَّزَّاق کی طرح مُبَلِّغ ہونے کے ساتھ ساتھ مدنی اِنعامات کا عامِل ، مدنی قافلوں کا مُسافِر اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے والا ہونا چاہیے ۔ نَعت خواں کو چاہیے کہ اَمیر وغریب کا فرق کیے بغیر جہاں بھی دعوت ملے ، چھوٹی محفل ہو یا بڑی ، اِیکو ساؤنڈ ہو یا نہ ہو، محض اللّٰہ و رسُول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی رضا کے لیے نعت خوانی کرے ۔ ایسا نہ ہو کہ مالدار بُلائے تو اُڑتا ہوا پہنچ جائے اور غریب بلائے تو اس کا گلا ہی بیٹھ جائے ۔
بعض نعت خواں بیرونِ مُلک جانے کے لیے مچلتے اور تَرستے رہتے ہیں، وہ اپنے ضمیر سے پوچھیں کہ اتنی دُور جانے کے لیے کون سا جذبہ اُبھار رہا ہے ؟ کہیں حُبِّ جاہ، ڈالر اور پاؤنڈ کی کشش تو نہیں کھینچ رہی؟اسی طرح بینَ الاَقوامی اور صوبائی سطح پر ہونے والے دعوتِ اِسلامی کے سُنَّتوں بھرے اِجتماعات یا بڑی راتوں میں ہونے والے اِجتماعِ ذِکر ونعت میں نعت یا صلوٰۃ و سلام پڑھنے کے لیے کوششیں کرتے رہنا، موقع ملنے پر دیر تک پڑھتے رہنا، بظاہر اس میں اِخلاص نظر نہیں آتا ۔ اگر اللّٰہ و رسُول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ