ہوئے پکڑے جائیں تو انہیں ہاتھوں ہاتھ پولیس کے حوالے کر دیا جائے ۔ اس موقع پر وہ لاکھ ہاتھ جوڑیں، پاؤں پکڑیں اور مِنَّت سَماجَت کریں ہرگز ان کو نہ چھوڑا جائے ۔ اگرچہ وہ چند دِنوں کے بعد جیل سے بَری بھی ہو جائیں گے مگر جیل میں جانے کے سبب گھر، خاندان اور علاقے میں ہونے والی بدنامی اور ذِلَّت و رُسوائی کو یاد کر کے آئندہ ضَرور اس سے بچنے کی کوشش کریں گے ۔
مُخالفت اور اِختلافِ رائے میں فرق
سُوال : مُخالفت اور اِختلافِ رائے میں کیا فرق ہے ؟ نیز کیا دعوتِ اسلامی میں اِختلاف رائے کی اِجازت ہے ؟
جواب : مُخالفت یہ ہے کہ کسی کو نیچا دِکھانے کے لیے بِلادَلیل اس کی ہر بات کااُلَٹ کرنا، اس پر نکتہ چینی کرنا اور ا س کا حکم ماننے کے بجائے لوگوں کو اس کے خِلاف بھڑکانا، اس کی کسی کو بھی اِجازت نہیں جبکہ اِختلافِ رائے یہ ہے کہ دَلائل کے ساتھ بَنیّتِ اِصلاح کسی کے ساتھ اس کے مؤقف کے خِلاف بات چیت کرنا ۔ اِختلافِ رائے کا ہر ایک کو حق ہے کیونکہ اِختلاف رائے کا مقصد اِصلاح اور خیر خواہی ہوتا ہے ، اس لیے اِختلاف رائے کرنے میں کو ئی حَرج نہیں ۔ ( شیخِ طریقت، اَمیرِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : ) ہمارے مدنی مَشوروں میں اِختلاف رائے ہوتی رہتی ہے کہ یُوں ہونا چاہیے اور یُوں نہیں یُوں ہونا چاہیے وغیرہ ۔ کبھی شوریٰ والوں کی بات میری سمجھ میں آ جاتی ہے تومیں ان کی