ہونے کی وجہ سے یہ سزا نہیں دی جا سکتی ۔ فی زمانہ اِن جَرائم کے سَدِّباب کے لیے اِس کاحکم بیان کرتے ہوئے فَقیۂ مِلَّت حضرتِ علّامہ مولانا مفتی جلالُ الدِّین احمد اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : اگر حکومت ِ اِسلامیہ ہوتی تو چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جاتا اور شراب پینے والے کواَسّی دُرّے مارے جاتے ۔ موجودہ صورت میں ان کے لیے یہ حکم ہے کہ مسلمان ان کا بائیکاٹ کریں ان کے ساتھ کھانا پینا، اُٹھنا بیٹھنا اور کسی قِسم کے اِسلامی تَعَلُّقات نہ رکھیں تاوقتیکہ وہ لوگ توبہ کر کے اپنے اَفعالِ قبیحہ سے باز نہ آ جائیں ۔ اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو وہ بھی گنہ گار ہوں گے ۔ (1 )
اگر چوروں کو سزا نہ دی جائے تو…؟
سُوال : اگر چوروں کو سزا نہ دی جائے تو وہ چوریوں میں اِضافہ کر دیں گے برائے کرم ! اس کی روک تھام کا کوئی حَل اِرشاد فرما دیجیے ۔
جواب : چوروں کو عام لوگ اپنے طور پر کوئی سزا دیتے ہیں تو اس سے فتنہ و فَساد کھڑا ہو جانے کا اَندیشہ ہے ۔ ایسی صورتِ حال میں چوریوں کی روک تھام کے لیے ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ان لوگوں سے قَطعِ تَعَلُّق کر کے ان کے ساتھ کھانا پینا، اُٹھنا بیٹھنا وغیرہ سب تَرک کر دیا جائے تاکہ یہ اپنے اس فعل سے باز آ جائیں ۔ اگر وہ پھر بھی باز نہ آئیں تو ان کے لیے بہترین دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر چوری کرتے
________________________________
1 - انوارُالحدیث، ص۳۹۲مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی