Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
34 - 43
چوروں اور شرابیوں کے بائیکاٹ کاحکم
سُوال : اگر کوئی شخص  چوری کرتے  یا شراب پیتے ہوئے پکڑا جائے  تو  اُسے سزا دینے کا اِختیار کس کو ہے ؟ نیز عام  آدمی کے لیے کیا حکم ہے ؟
جواب : اگر کسی شخص کو چوری کرتے ، شراب پیتے یا کسی بھی  گناہ میں مبتلا دیکھیں تو”اَمْرٌ  بِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر یعنی نیکی کا حکم کرنے اور بُرائی سے منع کرنے “  کے فریضے کو ادا کرتے ہوئے اپنی اِستطاعت کے مُطابِق اُسے  روکنے کی کوشش کیجیے ۔ اگر  ہاتھ یا زبان سے  روکنے کی  اِستطاعت نہ ہو تو کم از کم  دل میں اس فعل کو ضَرور بُرا جانیے ۔ خَلق کے رہبر، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی بُرائی کو دیکھے تو  اُسے چاہیے کہ اُس  بُرائی کو اپنے ہاتھ سے بَدل دے اور جو اپنے ہاتھ سے بدلنے کی اِستِطاعت  ( یعنی قوت )  نہ رکھے  اُسے چاہیے کہ اپنی زَبان سے بدل دے اور جو اپنی زَبان سے بدلنے کی بھی اِستِطاعت نہ رکھے  اُسے چاہیے کہ اپنے دِل میں بُرا جانے اور یہ کمزور ترین اِیمان کی علامت ہے ۔  (1  ) 
شَریعتِ مطہرہ  میں چوری کی سزا ہاتھ کٹنا ہے جبکہ چوری کی تمام شَرائط پائی جائیں اور شراب پینے والے کوا َسّی  کوڑے مارنا ہے مگر یہ سزا دینے کا  ہر ایک کو اِختیار حاصِل نہیں بلکہ یہ سزا دینا حاکمِ اسلام کا کام ہے ۔  اب اِسلامی سَلطَنت نہ 



________________________________
1 -    مسلم، کتاب الایمان، باب بیان کون النھی عن المنکر...الخ، ص۴۸، حدیث : ۱۷۷