ہے ۔ اس شِدَّت سے جنگ لڑتے کہ مَدِّمُقابِل دُشمن کو اپنی شِکَست نظر آنے لگتی ۔ ”اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عُمر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے دورِ خِلافت میں جب ان کی جگہ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو عُبَیْدَہ بِن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو شام کا سِپہ سالار مُقَرَّر فرمایا تو اس نئی تَقَرُّری کا یہ مکتوب دَورانِ جنگ مَوصُول ہوا تھا ، حضرتِ سیِّدُنا اَبُو عُبَیْدَہ بِن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حِکمتِ عملی کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے اسے ظاہِر نہیں فرمایا ، جب جنگ ختم ہوئی تو حضرتِ سَیِّدُنا خالِد بِن وَلِید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنی مَعزولی اور حضرتِ سیِّدُنا اَبُو عُبَیْدَہ بِن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تَقَرُّری کا عِلم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بخوشی ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : آپ نے مجھے اس کی اِطّلاع کیوں نہ دی ، عُہدہ آپ کے پاس تھا اس کے باوجودا ٓپ میرے پیچھے نماز پڑھتے رہے !“ ( 1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی کیسی مدنی سوچ ہوا کرتی تھی کہ اگر ان سے عُہدہ واپس لیا جاتا تو بخوشی اس سے سَبُکدوش ہو کر اِطاعت و فرمانبرداری کا اِظہار کرتے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان مُقَدَّس ہستیوں کے صَدقے ہمارے اَعمال میں اِخلاص پیدا فرمائے اور ہمیں ان کے نَقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
________________________________
1 - الریاض النضرة، الفصل الثامن ، ۲ / ۳۵۳ ملخصاً دار الکتب العلمية بیروت