جواب : ہمارے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے پیشِ نظر ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا ہوتی، وہ جو کام بھی کرتے محض رضائے الٰہی کے لیے کرتے ، دُنیوی شہرت اور عُہدے وغیرہ کا حُصُول ان کا مقصد ہرگز نہ ہوتا تھا، یہی وجہ ہے کہ اگر ان سے عُہدہ واپس لیا جاتا تو وہ بخوشی اس پر راضی ہو جاتے چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو عُبَیْدَہ بِن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو کہ”عَشرۂ مُبَشَّرہ“میں سے ہیں ان کو خَاتَمُ النَّبِیِّیْن ، جنابِ صادِق و امین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ”اَمِیْنُ الْاُمَّۃ“ ( یعنی اُمَّت کے امانت دار ) کاپیارا لقب عطا فرمایا ہے ۔ ( 1) اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خِلافت میں یہ اسلامی لشکر کے سِپہ سالار تھے حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اکابر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی مُشاوَرَت سے حضرتِ سیِّدُنا اَبُو عُبَیْدَہ بِن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی جگہ حضرتِ سیِّدُنا خالِد بِن وَلِید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو سِپہ سالار مُقَرَّر فرما دیا ۔ جب یہ خبر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پہنچی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے خود اپنی معزولی اور حضرتِ سیِّدُنا خالِد بِن وَلِید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تَقَرُّری کی خبر مُسلمانوں کو سُنائی ۔ ( 2 )
اسیطرح حضرتِ سَیِّدُنا خالِد بِن وَلِید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنہیں سَرکارِ عالی وَقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ”سَیْفُ اللہ“ کا لَقب عطا فرمایا
________________________________
1 - الاصابة، حرف العین المھملة، عامر بن عبداللّٰہ بن الجراح ، ۳ / ۴۷۵ دار الکتب العلمیة بیروت
2 - فُتُوحُ الشّام، ۱ / ۲۲ تا ۲۴ ملخصاً دار الکتب العلمية بیروت