مَرکز ان کی پیٹھ تھپکتا رہے ، ان کی ذِمَّہ داری بحال رہے تو وہ مَدَنی مَرکز کے فرمانبردار رہتے ہوئے مدنی کام کرتے رہتے ہیں مگر جُوں ہی ذِمَّہ داری ختم ہوئی تو اب شِکوہ و شِکایت کرتے ہوئے مُخالَفت پر اُتر آتے اور اپنے کارنامے بیان کرنے لگتے ہیں کہ مجھے بِلا وَجہ ذِمَّہ داری سے ہٹا دیا گیا ہے ، میں تو اِتنا کام کرتا تھا، اِتنے دَرس دیتا تھا ، میں نے اتنے مدنی قافلوں میں سفر کیا ہے ، میں نے اس سال اتنی کھالیں اور اتنا فِطرہ جمع کیا ہے ، فُلاں ذِمَّہ دار میرے بیان سے مُتأثر ہو کر مدنی ماحول میں آیا تھا، فُلاں علاقے میں میں نے مدنی کام شروع کیا تھا ۔ اب اسی پر بس نہیں بلکہ اپنے ذِمَّہ داران اور مجالس کے خِلاف باتیں کرنے لگتے ہیں ۔ اگر آپ یہ کام رضائے الٰہی کے لیے کرتے تھے تو عُہدے کے بغیر بھی یہ کام کیے جا سکتے ہیں لہٰذا نفس و شیطان کے اس وار کو ناکام بناتے ہوئے عُہدے کے حُصُول کے لیے نہیں بلکہ محض اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے مدنی کام کیجیے ۔ اگر کسی سے کوئی ذِمَّہ داری وغیرہ واپس لی جائے تب بھی اسے وفاداری کے ساتھ دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرتے رہناچاہیے ۔
بنا دے مجھے ایک دَر کا بنا دے
میں ہر دَم رہوں باوفا یاالٰہی ( وسائلِ بخشش )
عُہدہ واپس لیے جانے پر صحابۂ کرام کا طرزِ عمل
سُوال : عُہدہ واپس لیے جانے پر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا کیا طرزِ عمل ہوا کرتا تھا؟