Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
30 - 43
لوں گا ۔ “ چنانچہ اسے تین دن کی مہلت دے دی گئی ۔ دو دن تک تو اسے اپنا مَقصُود حاصل نہ ہو سکا ۔ اِتفاقاً تیسرے دن پروفیسر صاحب چھت سے سیڑھیوں کے ذَریعے نیچے اُتر رہے تھے کہ وہ شخص تیزی سے نیچے کی طرف اُترتے ہوئے اس پروفیسر سے جا ٹکرایا ۔ پروفیسر اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے  نیچے جا گرا اور دَھکا دینے والے کو بُرا بھلا کہنے لگا ۔  جواب میں اس اَدِیب نے مُسکراتے  ہوئے کہا : ”پروفیسر صاحب !میں نے آپ کی مادری زبان پہچان لی ہے ۔  جس زبان میں آپ بُرا بَھلا کہہ رہے ہیں یہی آپ کی مادری زبان ہے ۔ “ پروفیسر صاحب نے سَر جُھکاتے ہوئے اِقرار کر لیا کہ  واقعی یہ میری مادری زبان ہے  ۔ اس کے بعد دونوں بادشاہ کے پاس حاضر ہوئے ۔  اس شخص نے پروفیسر سے مُعافی مانگتے ہوئے کہا : میں دو دن تک آپ کی مادری زبان معلوم کرنے سے قاصِر رہا، تیسرے دن میرے ذہن میں آیا کہ جب کسی کو دَھکّا لگتا ہے تو اس وقت اس  کے اندر کا حال  ظاہِر ہوتا ہے جس کے لیے مجھے یہ صُورَت اِختیار کرنی پڑی ۔  
رضائے الٰہی کے لیے مدنی کام کیجیے 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے جب تک اس پروفیسر کو دَھکا نہیں  لگا تو اس وقت تک اس کا راز ظاہر نہیں  ہوا لیکن جیسے ہی دَھکا لگا تو اس کے اندر کا راز بھی  ظاہر ہو گیا ۔  اسی طرح بعض ذِمَّہ داران ایسے ہوتے ہیں  جب تک مَدَنی