اِطاعت کرنے پر مَجبور ہو جائیں ۔
عُہدہ واپس لیے جانے پر کیا کرنا چاہیے ؟
سُوال : عُہدہ واپس لیے جانے پر ایک ذِمَّہ دار کا ردِّ عمل کیسا ہونا چاہیے ؟
جواب : اگر کسی ذِمَّہ دار سے عُہدہ واپس لے لیا جائے تو اُسے چاہیے کہ دِل میں کَدُورَت ( رَنجش ) لائے بغیر اپنے عُہدے سے سَبُکدُوش ہو کر پہلے کی طرح مدنی کاموں میں مَشغول رہے ۔ یاد رکھیے ! عُہدہ دے کر کسی کی وَفا کو نہیں جانچا جاتا بلکہ عُہدہ لے کر ہی اسے جانچا جا سکتا ہے ۔ جس سے عُہدہ واپس لے لیا جائے تو دَراصل یہ اس کے اِمتحان کا وقت ہے ۔ اس اِمتحان میں کامیاب ہونے کے لیے اس سابقہ ذِمَّہ دار کو چاہیے کہ جس طرح پہلے وہ مدنی کام کرتا تھا اب بھی اسی طرح مدنی کام کرتے ہوئے اپنے نئے ذِمَّہ دار کی اِطاعت کرے اور کبھی بھی یہ شِکوہ و شِکایت نہ کرے کہ مجھ سے ذِمَّہ داری کیوں واپس لے لی گئی؟ کیونکہ کسی کو ذِمَّہ داری دیتے وقت یہ ضَمانت ( Guarantee ) تو نہیں دی جاتی کہ”اب زندگی بھر آپ ہی ذِمَّہ دار رہیں گے ۔ “ ا یسے وقت میں صبر و شکر کے ساتھ بدستور کام کیے جانا ہی اِطاعت ہے ۔ اگر کوئی ذِمَّہ دار ایسا نہ کرے بلکہ مُخالفت شروع کر دے یا مدنی کام چھوڑ دے تو یہ وَفا کے اُصُولوں کے خِلاف ہے ۔ عُہدے سے جب دَھکا لگتا ( یعنی عُہدہ واپس لیا جاتا ) ہے تو اس وقت اندر کا حال ظاہِر ہوتا ہے کہ کون کتنا وفادار اور مُخلص ہے اس ضِمن میں ایک دِلچسپ