کریں گے ؟ کیونکہ محبت ہی ایک ایسی چیز ہے جو اِطاعت کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ ”میری اِطاعت کرو ، میری اِطاعت کرو“ کہنے سے کوئی بھی اِطاعت نہیں کرتا ۔ اِطاعت کروانے کے لیے اَخلاقِ حَسَنَہ اور اَوصافِ حَمِیدہ کا پیکر بن کر اپنے کِردار کو سُتھرا کرنا ہو گا تاکہ ہر ماتحت اسلامی بھائی کا دِل اِطاعت کی طرف مائِل ہو جائے ۔ دیکھیے !اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت کا حکم دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ( پ۵، النسآء : ۵۹ )
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت کے لیے کافی تھا لیکن اس کے باوجود آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایسا اعلیٰ کِردار پیش کیا کہ ہر شخص خُود بخود آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف کھنچتا ہوا روئے تاباں پر فَریفتہ ہو کر گیسوئے پاک کا اَسیر ہو گیا ۔ یقیناً ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مُبارَک زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ اور مَشعَلِ راہ ہے ۔ ذِمَّہ داران کو چاہیے کہ وہ عِلم وعمل کے پیکر بنیں اور اپنے کِردار و گُفتار کو پاکیزہ رکھنے کی کوشش کریں ۔ اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کے ساتھ نَرمی اور حُسنِ اَخلاق سے پیش آئیں اور ان کے دُکھ دَرد میں شَریک ہوں تاکہ ماتحت اسلامی بھائیوں کے دِلوں میں ان کی محبت پیدا ہو اور وہ ان کی