اس سے بیزار ہوتا ہو گا ۔ ذِمَّہ داران کو اِنتہائی حِکمتِ عملی اپنانے کی ضَرورت ہے ، نہ تو اتنے بھولے بھالے ہوں کہ ماتحت اسلامی بھائیوں کے دِلوں میں ان کی کوئی قدر و اَہمیت ہی نہ ہو اور نہ ہی اتنے سخت ہوں کہ اسلامی بھائی ان سے دُور ہو جائیں ۔ مشہور مقولہ ہے کہ”نہ اتنے میٹھے بنو کہ لوگ تمہیں ہڑپ کر جائیں اور نہ ہی اتنے کڑوے بنو کہ لوگ تمہیں تھوک دیں ۔ “
ہو اَخلاق اچھا ہو کِردار ستھرا
مجھے متقی تو بنا یاالٰہی ( وسائلِ بخشش )
محبت اِطاعت کرواتی ہے
سُوال : ذِمَّہ دار کا اِس طرح کہتے پھرنا کہ” میری اِطاعت نہیں کی جاتی “ کیسا ہے ؟
جواب : ذِمَّہ دار کا اِس طرح کی باتیں کرنا گویا اپنی حَماقَت کا اِعلان کرنا ہے ۔ اِس طرح کی باتیں کرنے سے پہلے ذِمَّہ دار کو ماتحت اسلامی بھائیوں کے اِطاعت نہ کرنے کے اَسباب اور اپنی کمزوریوں پر غور کرنا چاہیے کہ وہ اس کی اِطاعت کیوں نہیں کرتے ۔ اگر وہ بات بات پر اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں پر غُصّے کا اِظہار کرتا، جھاڑتا ، ذاتی دوستیاں کرتا ، ماتحت اسلامی بھائیوں کے دُکھ دَرد اور غَمی خُوشی کے مَواقع پر شِرکت نہ کرتا ، دوسروں کو مدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافِلوں میں سفر کی دعوت دیتا اور خُود جی چُراتا ہو گا تو ایسی صورتِ حال میں ماتحت اسلامی بھائیوں کے دِلوں میں اس کی محبت کیسے پیدا ہو گی اور وہ اس کی اِطاعت کیسے