Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
23 - 43
جواب : دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار سُنَّتوں بھرا اِجتماع مَغرِب کی نماز  کے فوراً بعد شروع ہو کر صبح  اِشراق و چاشت کی نماز کے بعد صلوٰۃ و سلام  پر ختم ہوتا ہے ۔  تمام اسلامی بھائیوں کو چاہیے کہ وہ ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع کی بَرکتیں سمیٹنے کے لیے اوَّل تا آخر  ضَرور اس میں شِرکت فرمائیں ۔  ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع کے جَدول میں ساری رات مسجد اِعتکاف بھی ہے ۔  اِجتماع میں ساری رات اِعتکاف کی بَرکت سے عشا کی نماز باجماعت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ نمازِ فجر بھی بآسانی  باجماعت ادا کر کے ساری رات عبادت کا ثواب حاصِل کیا جا سکتا ہے چُنانچِہ حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سُنا : جس نے عشا کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے ساری رات قیام کیا ۔  (1  )  
اِسی طرح اِجتماع میں ساری رات اِعتکاف کرنے والے وہ اسلامی بھائی جو نمازِ تہجد ادا کرنے کی سعادت حاصل  کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے الگ حصّے میں آرام کرنے کی تَرکیب ہوتی ہے ، ذِمَّہ داران انہیں نمازِ تہجد کے لیے بیدار کرتے ہیں اور نمازِ تہجد دِیگر اسلامی بھائیوں کے آرام کا لحاظ کرتے ہوئے ادا کی جاتی ہے ،  اس کے بعد بغیر مائیک کے بارگاہِ الٰہی میں گِڑ گِڑا کر دُعائیں   مانگنے  کا بھی موقع 



________________________________
1 -      مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاة العشا...الخ، ص۲۵۸، حدیث :  ۱۴۹۱