بعد شروع ہو جاتے ہیں لہٰذا سبھی اسلامی بھائیوں بالخُصُوص ذِمَّہ داران کو وقت کی پابندی کرتے ہوئے مَغرِب کی نماز اِجتماع والی مسجد ہی میں ادا کرنی چاہیے ۔ ( شیخِ طریقت، اَمیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ) دعوتِ اسلامی کے اَوائل میں جب بابُ المدینہ ( کراچی ) میں ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع کا آغاز ہوا تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ میرا یہ مَعمُول تھا کہ عصر کی نماز کے بعد گھر سے چل پڑتا اور نمازِ مَغرِب سے پہلے اِجتماع گاہ پَہنچ جاتا تھا ۔ اُس وقت اسلامی بھائی بھی ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع میں وقت پر آنے کا اِہتمام فرماتے تھے پھر آہستہ آہستہ سُستی و کاہلی شروع ہوئی جو اَب ایک تعداد کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے ۔
بہرحال ذِمَّہ دار اسلامی بھائیوں کو چاہیے کہ وہ اِجتماع والے دن اپنے کام کاج وغیرہ سے جلد فَراغت پا کر نئے اسلامی بھائیوں پر اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے انہیں ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع میں ساتھ لائیں اور اوَّل تا آخر سُنَّتوں بھرے اِجتماع میں شِرکت کر کے خُوب خُوب اس کی بَرکتیں لوٹیں ۔ اَفسوس صَد کروڑ اَفسوس ! گھر میں خُوشی کی تقریبات یا دِیگر دُنیوی وُجُوہات کی بِنا پر کئی کئی روز تک دُکان بند کر لی جاتی ہے مگر اپنی قبر و آخرت کو بہتر بنانے ، عِلمِ دِین سیکھنے سکھانے اور ثوابِ آخرت کمانے کے لیے کئی روز تک دُکان بند کرنا تو کُجا اِجتماع والے دن کچھ دیر قبل بند کر دینا بھی گوارا نہیں ہوتا ۔ کاش! ہر