Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
18 - 43
  میں اِتفاق و اتحاد ہو گا تو ہم  نفس و شیطان کے وار سے بچ کر  دِین کا کام بھی زیادہ سے زیادہ کر سکیں گے کیونکہ اِتفاق و اِتحاد میں بَرکت اور سَلامتی ہے  اِس ضِمن میں ایک  حِکایت مُلاحظہ کیجیے : ”ایک حکیم نے اپنی موت کے وقت اپنی اولاد کو وَصِیَّت کرتے ہوئے چند لاٹھیاں لانے کو کہا ، جب وہ لاٹھیاں لائے تو انہیں ایک ساتھ باندھ کر  کہا :  ان لاٹھیوں کو توڑو ۔ سب نے لاٹھیاں  توڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے ۔  پھر اس نے ان لاٹھیوں کو الگ الگ کیا اور ایک ایک لاٹھی سب کو  دیتے ہوئے کہا :  اب انہیں  توڑو ۔  دیکھتے ہی دیکھتے سب نے  لاٹھیاں توڑ  ڈالیں ۔  حکیم نے کہا  : تمہاری مثال بھی ان لاٹھیوں کی طرح  ہے کہ  اگر تم میرے بعد آپس میں اِتفاق و اِتحاد کے ساتھ رہو گے تو ( ان بندھی ہوئی لاٹھیوں کی طرح مَضبوط  ومستحکم رہو گے  ) دُشمن تم پر غالِب نہیں آ سکے گا اور اگر تم ایک دوسرے سے  جُدا ہو  گئے تو ( ان الگ الگ  کی  ہوئی لاٹھیوں کی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاؤ گے اور )  تمہارا  دُشمن تم پر قابو پا کر تمہیں ہَلاک کر دے گا ۔ “ (  1) 
مسلمانوں کو آپس میں اِتفاق پیدا کر کے محبتیں عام کرنی  اور نفرتیں  دُور  کرنی چاہییں اور ہراس کام سے بچنا چاہیے جو ایک دوسرے  کے لیے  نفرت و عداوت  اور اِیذا رسانی  کا باعِث بنتا ہو ۔  حدیثِ پاک میں ہے : مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور مُہاجِر وہ ہے جو بُرے کام



________________________________
1 -    رو ح  البیان، پ ۲۵، الشوریٰ، تحت الآیة : ۱۳ ، ۸ / ۲۹۶ کوئٹه