میں اِتفاق و اتحاد ہو گا تو ہم نفس و شیطان کے وار سے بچ کر دِین کا کام بھی زیادہ سے زیادہ کر سکیں گے کیونکہ اِتفاق و اِتحاد میں بَرکت اور سَلامتی ہے اِس ضِمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے : ”ایک حکیم نے اپنی موت کے وقت اپنی اولاد کو وَصِیَّت کرتے ہوئے چند لاٹھیاں لانے کو کہا ، جب وہ لاٹھیاں لائے تو انہیں ایک ساتھ باندھ کر کہا : ان لاٹھیوں کو توڑو ۔ سب نے لاٹھیاں توڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے ۔ پھر اس نے ان لاٹھیوں کو الگ الگ کیا اور ایک ایک لاٹھی سب کو دیتے ہوئے کہا : اب انہیں توڑو ۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب نے لاٹھیاں توڑ ڈالیں ۔ حکیم نے کہا : تمہاری مثال بھی ان لاٹھیوں کی طرح ہے کہ اگر تم میرے بعد آپس میں اِتفاق و اِتحاد کے ساتھ رہو گے تو ( ان بندھی ہوئی لاٹھیوں کی طرح مَضبوط ومستحکم رہو گے ) دُشمن تم پر غالِب نہیں آ سکے گا اور اگر تم ایک دوسرے سے جُدا ہو گئے تو ( ان الگ الگ کی ہوئی لاٹھیوں کی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاؤ گے اور ) تمہارا دُشمن تم پر قابو پا کر تمہیں ہَلاک کر دے گا ۔ “ ( 1)
مسلمانوں کو آپس میں اِتفاق پیدا کر کے محبتیں عام کرنی اور نفرتیں دُور کرنی چاہییں اور ہراس کام سے بچنا چاہیے جو ایک دوسرے کے لیے نفرت و عداوت اور اِیذا رسانی کا باعِث بنتا ہو ۔ حدیثِ پاک میں ہے : مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور مُہاجِر وہ ہے جو بُرے کام
________________________________
1 - رو ح البیان، پ ۲۵، الشوریٰ، تحت الآیة : ۱۳ ، ۸ / ۲۹۶ کوئٹه