مسلمانوں میں دُشمنی و عداوت ڈالنے اور نفرتیں بڑھانے کا ایک سبب ایک دوسرے کی بُرائیاں اُچھال کر ایک دوسرے کو بَدنام کرنا بھی ہے ۔ اس سے بھی نفرت و عداوت پیدا ہوتی ہے ایسا کرنے والوں کو اپنی دُنیا وآخرت کی فِکر کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر جانا چاہیے چنانچہ پارہ 18سُوْرَۃُ النُّور کی آیت نمبر 19 میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشاد فرماتا ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-
ترجمۂ کنزُ الایمان : وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے اُن کے لیے دَردناک عذاب ہے دُنیا اور آخرت میں ۔
دوسروں کے بِلااِجازتِ شَرعی عُیُوب بیان کرنے اور انہیں لوگوں میں بَدنام کرنے کے سبب اگر خُدا نخواستہ عذابِ الٰہی کا شِکار ہو گئے تو ہمارا کیا بنے گا؟ ہم تو ہلکی سی تکلیف بھی بَرداشت نہیں کر پاتے تو جہنم کا دَردناک عذاب کیسے بَرداشت کر پائیں گے ؟
اِسیطرح مسلمانوں میں نفرتیں بڑھانے کا ایک سبب بِلا مَصْلَحَتِ شَرعی گروہ بندی بھی ہے اَلبتہ اگر کسی سے دُور یاالگ رہنے کا حکمِ شَرعی ہو تو یہ اور بات ہے ۔ جب اپنے اپنے گروہ یا مَخْصُوص حلقے بنا لیے جاتے ہیں تو اس سے بھی ایک دوسرے کی مُخالفت اور آپس میں نفرتیں جنم لیتی ہیں جس سے مسلمانوں میں محبت و اِتحاد پیدا نہیں ہو پاتا اور دِین کے کام کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ اگر آپس