کینہ پَرور اس مقدَّس رات میں مغفرت سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی پوشیدہ باتیں اور راز اِفشا ( یعنی ظاہر ) کر کے عیب چھپانے اور مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی عظیم فضیلت سے بھی محروم رہتا ہے حالانکہ اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے ، اس سے تکلیف دُور کرنے اور اس کی عیب پوشی کرنے کی بڑی فضیلت ہے چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایت ہے کہ رَسُولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظُلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی حاجت پوری کرتا ہے اور جو کسی مسلمان کی تکلیف دُور کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ قِیامت کی تکالیف میں سے اُس کی تکلیف دُور فرمائے گا اور جو کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے روز اس کی عیب پوشی فرمائے گا ۔ (1 )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غصّے سے اِجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سینے کو کینہ ٔ مُسلِم سے پاک کر لیجیے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خیرخواہانہ سلوک کیجیے ۔ ان کی خُوشی کو اپنی خُوشی اور ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف تصوُّر کیجیے کہ مسلمان آپس میں ایک جِسم
________________________________
1 - مسلم، کتاب البر والصلة والآداب ، باب تحریم الظلم ، ص۱۰۶۹، حدیث : ۶۵۷۸دار الكتاب العربی بيروت