Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
14 - 43
لینے والے کے لیے حدیثِ پاک میں زَبردست بشارت ہے چنانچہ حضورِ پُرنور، شافعِ یومُ النشور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ پُرسُرور ہے : جس نے غُصّہ ضبط کر لیا باوُجُود اس کے کہ و ہ غُصّہ نافِذ کرنے پر قدرت رکھتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے دِل کو سُکون و اِیمان سے بھر دے گا ۔  (1  ) اور جو لوگ اپنے غصّے کو ضبط کرنے کے عادی نہیں ہوتے وہ جب کسی  پر اپنا غُصَّہ اُتار نہ سکیں تو یہ غُصّہ اندر ہی اندر کینے کی صورت اِختیار کر لیتا ہے جس سے حَسد اور شَماتَت (2  ) جیسی باطِنی بیماریاں جنم لیتی ہیں، کینہ پَرور وہ بَدبخت شخص ہے جس کی  شَبِ بَراءَت  ( یعنی چھٹکارا پانے کی رات )  میں بھی مَغفرت نہیں ہوتی چُنانچہ حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جَبَلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوایت ہے کہ رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : شعبان کی پندرہویں  شَب میں اللہ عَزَّوَجَلَّ  اپنے بندو ں پر نظرِ رَحمت فرماتا ہے اور سب کو بخش دیتا ہے لیکن مُشرک اور کینہ پَرور نہیں بخشا جاتا ۔ ( 3 )   



________________________________
1 -    جامع صغیر، حرف المیم ، ص۵۴۱ ، حدیث : ۸۹۹۷  دار الکتب العلمیة بیروت 
2 -    اپنے کسی بھی نسبی یا مسلمان بھائی کے نقصان یا اُس کو ملنے والی مصیبت و بلا کو دیکھ کر خوش ہونے کو شَماتت کہتے ہیں ۔  (حدیقه ندیه ، المقالة  الثانیة  فی غوائل الحقد ، ۱ / ۶۳۱)  
3 -    الاحسان، کتاب الحظر والاباحة، باب ما جاء  فی التباغض... الخ ، ۷ / ۴۷۰، حدیث : ۵۶۳۶ دار الكتب العلمية  بيروت