Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
13 - 43
 کینے کا نتیجہ ہے اور کینہ غصّے کا نتیجہ ہے لہٰذا اِن سے بچنا اِنتہائی ضَروری ہے ۔  یاد رکھیے ! غصّہ بذاتِ خُود نہ اچھا ہے نہ بُرا ۔  دَرحقیقت غُصّے کی اچھائی اور بُرائی کا دارو مدار موقع محل کی اچھائی اور بُرائی پر ہے ۔  اگر موقع محل کی نسبت سے غصّہ کیا اور اس کے اَثرات اچھے ظاہر ہوئے تو یہ غصّہ بھی اچھا ہے بلکہ بعض صورتوں میں لازِم بھی ہے اور اگر بے محل غصّہ کیا اور اس کے اَثرات بُرے ظاہر ہوئے تو یہ غصّہ بھی  بُرا ہے ۔  بسااوقات اِنسان بے جا غصّے میں آ کر بہت سارے بنے بنائے کام بگاڑ دیتا ہے اورکبھی تو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  غصّے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناشکری اور کلمۂ  کفر کااِرتکاب کر کے اپنے ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔  سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : جہنم میں ایک ایسا دَروازہ ہے جس سے وہی لوگ داخِل جہنم  ہوں گے جن کا غُصّہ کسی گناہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔ ( 1 )  
بہرحال اپنے غصّے پر قابو پانے ہی میں عافیت ہے ۔  سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خُوشگوار ہے : پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہی ہے جو غصّے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے ۔  (  2) اپنے غصّے کو نافِذ کرنے کی اِستطاعت رکھنے کے باوجود ضبط کر 



________________________________
1 -    کنزالعمّال، کتاب الأخلاق، حرف الغین ، الغضب ، الجزء : ۳، ۲ / ۲۰۸، حدیث : ۷۷۰۳ دار الکتب العلمیة بیروت 
2 -    بخاری ، کتاب الأدب ، باب الحذر  من الغضب، ۴ / ۱۳۰، حديث : ۶۱۱۴ دار الکتب العلمیة  بیروت