Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
12 - 43
رکھیے ! مسلمانوں کو آپس میں لڑانا اور ان میں فتنہ و فساد بَرپا کرنا شیطانی کام ہے جیسا کہ  خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے : 
اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْؕ      ( پ۱۵، بَنِیْ  اِسْرَائِیْل : ۵۳ ) ترجمۂ کنز الایمان : بے شک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈال دیتا ہے  ۔ 
لہٰذا اس شیطانی  کام کو چھوڑ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لیے مسلمانوں میں صُلح کروا کر اِتفاق و اِتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔  ہاں اگر یہ بُغض و کینہ اور عداوت و دُشمنی کسی بَدمذہب سے ہو تو اس سے صُلح نہ کی جائے کیونکہ بَدمذہبوں سے دُور رہنے کا ہی شریعت نے حکم دیا ہے اور ان سے کینہ بھی واجِب ہے ۔   
منکر کے لیے نارِ جہنم ہے مناسب
جو آپ سے جلتا ہے وہ جل جائے تو اچھا
غصّے اور کینے کے نقصانات
سُوال :  غصّہ کرنے  اور کینہ رکھنے کے نُقصانات بیان فرما دیجیے ۔  
جواب : ناحق غصّہ کرنے ، دِل میں کینہ (  1)  رکھنے اور مسلمانوں سے حَسد ( 2 )   کرنے کے بے شمار نُقصانات ہیں ۔   یہ تینوں چیزیں ایک دوسرے کو لازِم  و مَلزوم ہيں ۔  حَسد



________________________________
1 -    کینہ یہ ہے کہ اِنسان اپنے دِل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیرشرعی دُشمنی وبغض رکھے ، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے ۔ (احیاءُ العلوم، کتاب  ذم الغضب والحقد والحسد ، ۳ / ۲۲۳ دار صادر بیروت )
2 -    کسی کی دِینی یا دُنیوی نعمت کے زوال (یعنی اس کے چھن جانے )کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فُلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے ، اس کا نام حسد ہے ۔ (حدیقه ندیه ، الخلق الخامس عشر ... الخ  ، ۱ / ۶۰۰ پشاور )