Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط:29 صُلح کروانے کے فَضائل
11 - 43
 ہیں : تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی ا س میں گناہ نہیں : ایک جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مُقابِل کو دھوکا دینا جائز ہے ، اسی طرح جب ظالِم ظُلم کرنا چاہتا ہو اس کے ظُلم سے بچنے کے لیے بھی جائز ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دو مسلمانوں میں اِختلاف ہے اور یہ ان دونوں میں صُلح کرانا چاہتا ہے ، مثلاً ایک کے سامنے یہ کہدے کہ وہ تمہیں اچھا جانتا ہے ، تمہاری تعریف کرتا تھا یا اس نے تمہیں سلام کہلا بھیجا ہے اور دوسرے کے پاس بھی اسی قسم کی باتیں کرے تاکہ دونوں میں عداوت کم ہو جائے اور صُلح ہو جائے ۔  تیسری صورت یہ ہے کہ بی بی کو خوش کرنے کے لیے کوئی بات خلافِ واقع کہہ دے ۔  (  1)  
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے کہ  شریعتِ مطہرہ کو مسلمانوں کا آپس میں اِتفاق و اِتحاد کس قدر محبوب ہے کہ ان میں صُلح کروانے کے لیے جھوٹ تک بولنے کی اِجازت مَرحمت فرمائی ہے مگر بدقسمتی سے آج کل صُلح  کروانے کے بجائے خلافِ واقع بات کہہ کر مسلمانوں میں پُھوٹ ڈالی جاتی ہے ۔ اگر کوئی کسی کے خِلاف معمولی سی بات بھی کر دے  تو اس  کی بات کو مزید بڑھا چڑھا کر چُغلی (2  )   کرتے ہوئے دوسرے سے بیان کیا جاتا ہے تاکہ ان میں بغض و عداوت  کی آگ بھڑک اُٹھے اور یہ ایک دوسرے سے دُور ہو جائیں ۔  یاد 



________________________________
1 -    بہارِ شریعت ، ۳ / ۵۱۷ ، حصّہ  : ۱۶ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی 
2 -   کسی کی بات ضَرر (یعنی نقصان )پہنچانے کے اِرادے سے دوسروں کو پہنچاناچُغلی ہے ۔  (عمدة    القاری ، ۲ / ۵۹۴، تحت الحدیث : ۲۱۶  دار الفکر بیروت )