Brailvi Books

قسط22: کیا جنَّت میں والدین بھی ساتھ ہوں گے؟
45 - 47
	 کے دِن فضول باتوں کا حِساب دىنا پڑے گا اور جس سے حِساب ہوا اس کى بس شامت آئى ۔  قىامت کے روز حِساب دىنا بہت مشکل کام ہے لہٰذا جتنا ہو سکے فضول باتوں سے بھى بچنا چاہیے ۔  ضَرورت کى بات اگرچہ قفلِ مدینہ کے منافی نہیں لیکن اگر ممکن ہو تو اسے بھى لکھ کر کرےیا اِشارے سے کام چلا لے ۔ 
رِسالہ ”خاموش شہزادہ“پڑھنا یا سننا
ىومِ قفلِ مدىنہ مىں اىک بار رِسالہ ”خاموش شہزادہ“بھى پڑھنا ہوتا ہے ۔  زہے نصىب ہر ایک ىومِ قفلِ مدىنہ اِس طرح منائے کہ ىہ رِسالہ پڑھ یا سُن لے ۔  دعوتِ اسلامى کى وىب سائىٹ سے یہ رِسالہ پڑھا یا سُنا جا سکتا ہے ۔ چاہیں تو یہ رِسالہ تھوڑا تھوڑا کر کے کئی قِسطوں میں پڑھ لیں یا  چاہیں تو بولتا رِسالہ کی آڈیو سُن لیں ۔ اِجتماعی طور پر بھی سُنا جا سکتا ہے لیکن اس میں توجہ اور یک سوئی ہونا کچھ مشکل ہے ۔  
لکھ کر یا اِشارے سے گفتگو کب کی جائے؟
لکھ کر ىا اِشارے سے گفتگو وہیں کی جائے جہاں سامنے والا بھی اپنے ذہن کا ہو ۔  اگر عام آدمى سے اِس طرح گفتگو کریں گے تو پھر لڑائى ہو سکتى ہے اور لڑائى سے بچنا ضَروری ہے ۔ اگر ماں باپ اِشارے نہىں سمجھتے تو آپ ان کو اِشارے سمجھنے پر مجبور نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا ماں باپ کى اِىذا کا باعِث ہو سکتا ہے جس سے بچنا لازمی ہے ۔