ٹوٹے ہوئے برتنوں میں کھانا کیسا؟
سُوال : ٹوٹے ہوئے برتنوں مىں کھانا جائز ہے ىا ناجائز؟
جواب : ٹوٹے ہوئے برتن میں کھانا پینا ناجائز و گناہ نہیں ہے، البتہ جس طرف سے برتن ٹوٹا ہوا ہے یا دراڑ پڑی ہے تو اس طرف سے پینا مکروہِ تَنزىہى ىعنى ناپسندىدہ ہے لہٰذا اس سے بچنا چاہیے ۔ (1)ہاں! اگر دوسرى جگہ سے پىا جس طرف دراڑ نہیں تو پھر یہ مکروہ نہىں ہے ۔
کیا جمعہ نہ پڑھنے والا کافر ہے؟
سُوال : کىا تىن جمعہ چھوڑنے والا کافر ہوجاتا ہے؟
جواب : تىن جمعہ چھوڑنے والا کافر نہىں ہو جاتا ۔ البتہ یہ وعىد آئی ہے کہ جان بوجھ کر تىن جمعہ چھوڑنے والے کے دِل پر مہر لگ جاتى ہے ۔ (2)
یومِ قفلِ مدینہ کا تَعارُف
سُوال : ىومِ قفلِ مدىنہ کیا ہے ، کچھ راہ نمائی کر دیجیے؟
جواب : ہر اسلامى مہىنے کى پہلى پىر شرىف کو ہم ىومِ قفلِ مدىنہ مَناتے ہىں ۔ گناہوں بھرى بات چیت سے تو ہر وقت ہی بچنا ہے لیکن اس دِن فضول بات چیت سے بچنے کى بھی کوشش کى جاتى ہے ۔ فضول بات اگرچہ گناہ نہىں ہے لىکن قىامت
________________________________
1 - چڑیا اور اندھا سانپ ، ص۱۷ ماخوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
2 - ابوداود ، کتاب الصلاة، باب التشدید فی ترک الجمعة، ۱ / ۳۹۳، حدیث : ۱۰۵۲