ہے ۔ لہٰذا اگر ہمیں جنت میں جانا اور جہنم سے خود کو بچانا ہے تو ہمیں اپنا یہ ذہن بنانا پڑےگا کہ ہمارا عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے بغیر گزارا نہیں ہے ۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت، مُجَدِّدِ دِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے فرمان کا مفہوم ہے : انسان کو ہر آن ہرلمحہ عالِمِ دِین سے مسئلہ پوچھنے کی ضَرورت رہتی ہے ۔ (1) بلکہ عوام خود کہتے ہیں کہ بعض مَسائل بال سے بھی باریک ہوتے ہیں اس کے باوجود یہ بےچارے بال سے باریک مَسائل حل کرنے کے لیے خود ہی بیٹھ جاتے اور کچھ کا کچھ کر ڈالتے ہیں ۔ اللہ کرے دِل میں اُتر جائے میری بات ۔
میوزک والے آلات جیب میں ہوں تو نماز ہو گی؟
سُوال : اگر مىوزک والے آلات جىب مىں ہوں تو کىا نماز ہوجائے گى؟
جواب : اگر میوزک والے آلات جیب میں ہوں تو نماز ہو جائے گى ۔ مىوزک والے آلات عموماً جىب مىں ہوتے نہىں ہیں ۔ اگر ان آلات سے کسی کی مُراد موبائل فون ہے تو یہ تقریباً سبھی کی جیب میں ہوتا ہے ۔ موبائل میں اگرچہ مىوزک ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ جو دعوتِ اسلامى والے بلکہ جو بھی نىک لوگ ہىں وہ میوزک نہىں سنتے ۔ بہرحال میوزک کا سُننا اور چىز ہے اور اس کے آلات کا جىب مىں ہونا اور چىز ہے ۔
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ، ۷ / ۷۰۵-۷۰۶ ماخوذاً