چوری ہو جائے یا شناختی کارڈ گم ہو جائے تو وہ پولیس سے رابطہ کرتا ہے صِرف خود ڈھونڈنا شروع نہیں کر دیتا ۔ یوں ہی کپڑے سِلوانے ہوں تو دَرزی سے رابطہ کیا جاتا ہے کہ وہ سلائی کرکے دے گا تو ہم کپڑے پہنیں گے ۔ اب اپنا یہی طرزِ عمل ذہن میں رکھتے ہوئے سوچا جائے کہ اگر جنَّت میں جانا اور جہنم سے خود کو بچانا ہے تو اس حوالے سے ہماری راہ نمائی کون کرے گا؟ ظاہر ہے عُلَمائے کِرام ومفتیانِ کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام ہی بتائیں گے کہ آپ اس مسئلے میں یہ کریں گے تو جنَّت ہے یا فُلاں طریقہ اِختیار کریں گے تو جنَّت ہے ۔
ہروقت عالِمِ دِین سے مسئلہ پوچھنے کی ضَرورت رہتی ہے
اب بھی اگر عُلَمائے کِرام ومفتیانِ کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے راہ نمائی لینے کا ذہن نہ بنے تو پھر ذرا غور کیجیے!کیا دِینی معاملات کی اہمیت ایسی کم ہو گئی کہ ان کے ماہرین بغیر پیسے لیے مُفت مَسائل بتاتے ہیں اس کے باوجود ہم ان سے رابطہ کر کے مَسائل نہیں پوچھتےحالانکہ سارے کام ان کے ماہرین اور Specialist کے پاس جا کر رَقم خرچ کر کے کرواتے ہیں بلکہ ڈاکٹروں کو تو مٹھیاں بھر بھر کے پیسے ادا کرتے ہیں ۔ یاد رَکھیے!اگر ہم دُنیوی اُمُور کے ماہرین کے پاس نہ جائیں تو ہمارا تھوڑا بہت نقصان ہو گالیکن اگر ہم اپنے شرعی معاملات میں دِینی ماہرین سے رابطہ نہ کریں تو بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے حتّٰی کہ اِیمان بھی بَرباد ہو سکتا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ بھی مقدر ہو سکتی