Brailvi Books

قسط22: کیا جنَّت میں والدین بھی ساتھ ہوں گے؟
41 - 47
	 ہمارے اِسلام اور شریعت کا کیا حکم ہے؟(نگرانِ شوریٰ کا سُوال) 
جواب : نگرانِ شُوریٰ نے اچھی توجہ دِلائی ہے کہ ”دارُالافتا اہلسنَّت سے رُجوع کرنا چاہیے “اس جملے میں ہو سکتا ہے بہت سے لوگ لفظ  ”رُجوع “ کا مَطلب نہ سمجھتے ہوں، خُصُوصاً بیرون ممالک کے اسلامی بھائیوں کی اُردو بالکل ہی کمزور ہوتی ہے ۔  وہ دعوتِ اسلامی کی بَرکت سے کچھ نہ کچھ سمجھنے لگے ہیں باقی یا تو مقامی زبان بولتے ہیں یا انگریزی بولتے ہیں اُردو کم لوگ بولتےہیں بلکہ اب تو پاکستان میں بھی یہ حال ہوتا جا رہا ہے کہ لوگ اُردو  کے کئی اَلفاظ نہیں سمجھتے ۔  بہرحال ”رُجوع“ کا مَطلب یہ ہے کہ دارُالافتا اہلسنَّت سے معلومات کر لیجیے یا درپیش مسئلہ دَریافت کرلیجیے ۔  رہی یہ بات کہ دارُ الافتا اہلسنَّت سے رُجوع کرنے کا ذہن  کیسے بنے؟ تو اس حوالے سے عرض ہے کہ اپنے مَسائل کے حَل کے لیے دارُ الافتا اہلسنَّت سےرُجوع کرنے کا ذہن بنانا ہی پڑے گا ۔ جیسے جب کسی کی گاڑی خراب ہوجائے تو وہ اس کے مکینک سے رابطہ کرتا ہے، اس کے پاس اپنی گاڑی لے جاتا ہے اور معلومات کرتا ہے کہ یہ کس طرح صحیح ہو گی؟نیز اگر کوئی بیمار ہو جائے تو وہ اپنے طور پر علاج نہیں کرتا بلکہ ڈاکٹر سے رُجوع کرتا ہے کیونکہ اس کا پہلےسے ذہن بنا ہوا ہوتا ہے کہ بیماری میں ڈاکٹر سے  رُجوع کرنا ہے،  اب یہ ہی میری مدد کرے گا ۔  اگرچہ  معمولی بیماری جیسے نزلہ یا سر دَرد وغیرہ ہوتو بعض لوگ اس کا علاج کر لیتے ہیں ۔ اِسی طرح  کسی کی کوئی چیز مثلاً موٹر سائیکل وغیرہ