پڑھے کہ اس صورت میں فجر پڑھنے میں کوئی حَرج نہیں اس کی فجر ادا ہو جائے گی ۔ (1) مگر وہ قضائیں اب بھی ذِمّے پر باقی رہیں گی ۔ اگر کسی کی چھ نمازوں سے زیادہ نمازیں قضا ہیں یعنی چھٹی نماز کا وقت بھی نکل چکا ہے تو یہ اب صاحبِ تَرتیب نہ رہا اب اس کے لیےاِجازت ہےچاہے اس وقت کی نماز پہلے پڑھ لے یا زندگی کی کوئی قضا نماز پہلے پڑھ لے ۔ (2) جن پر کئی نمازیں قضا ہیں وہ Confused نہ ہوں کہ ہماری کوئی نماز ہوتی ہی نہیں ایسا نہیں ہے اگر وہ صاحبِ تَرتیب نہیں ہیں تو اپنی وقتی نمازوں کے ساتھ ساتھ قضا بھی پڑھتے رہیں کہ ان قضا نمازوں کو جلد از جلد ادا کرنا واجب ہے لہٰذا کھانے پینے اور روزگار کمانے کے عِلاوہ جو وقت بچے اس میں تمام نمازیں پڑھ لیں ۔
دارُ الافتا سے رُجوع کرنے کا ذہن کیسے بنے؟
سُوال : بہت سارے مَسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں دارُالافتا اہلسنَّت سے رُجوع نہیں کیا جاتا بلکہ آج کل تو یہ ذہن بن گیا ہے کہ چلو یار سب کر رہے ہیں تو صحیح ہی ہو گا ۔ اِس حوالے سے یہ اِرشاد فرما دیجیے کہ ہمارا یہ ذہن کیسے بنے کہ ہمیں کچھ نہیں آتا، ہم ہر بات میں مفتیانِ کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے راہ نمائی لیں اور قدم قدم پر اِس بات کی فِکر کریں کہ جو کام ہم کرنے جا رہے ہیں اس حوالے سے
________________________________
1 - بہارِ شریعت ، ۱ / ۷۰۳، حصہ : ۴ ماخوذاً
2 - بہارِ شریعت ، ۱ / ۷۰۵، حصہ : ۴ ماخوذاً