Brailvi Books

قسط22: کیا جنَّت میں والدین بھی ساتھ ہوں گے؟
39 - 47
	 شَرف ملنا تھا کہ یہ قیامت تک ناز کرے کہ میں وہ ہوں جس نے نبیٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو نہ صِرف سَلام عرض کیابلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خِدمت میں رہا اور بَدن مُبارَک کے خوب بوسے لیے ہیں لہٰذا کسی کو اِس طرح کہنا کہ اس کی بیماری کی وجہ گناہوں میں پڑنا ہے دُرُست نہیں ۔ یاد رَکھیے! بىمارى اللہ پاک کی رَحمت ہے اور اس کے فَوائد میں سے ہے کہ اِنسان کو نیکیاں ملتیں اور گناہ مِٹا دئیے جاتے ہیں ۔  (1)
قضا نمازوں کی اَدائیگی کے مَسائِل
سُوال : کیا عشا کے فرض اور وتر کی قضا الگ الگ کی جاسکتی ہے؟
جواب : جیسے صبح عشا کے فرض پڑھے اورشام کو وتر پڑھ لیے اِس طرح اَدائیگی ہوتو جائے گی لیکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ قضا نماز جلد از جلد ادا کر لی جائے ۔  ہاں!اگر کوئی صاحبِ تَرتیب ہے تو اس کو اگلی نماز پڑھنے سے پہلے پچھلی نماز پڑھنا ہو گی ۔ (2) جیسے اگر کسی کی نمازِ عشا قضا ہو گئی اور اس پر چھ نمازوں سے کم نمازیں قضا ہیں تو اس پر فرض ہے کہ یہ فجر کی نماز پڑھنے سے پہلے قضا نمازیں ادا کرلے  اگر یہ قضا پڑھنے سے پہلے فجر پڑھے گا تو فجر نہیں ہو گی ۔ البتہ  فجر کا وقت اتنا تنگ رہ گیا کہ اگر قضا  پڑھنے کھڑا ہو گا وقت نکل جائے گا تو فجر ہی 



________________________________
1 -   مستدرک، کتاب الجنائز، باب ما من یصیب المومن…الخ، ۱ / ۶۶۸، حدیث : ۱۳۲۶ دار المعرفة بیروت
2 -   بہارِ شریعت ، ۱ / ۷۰۳، حصہ : ۴ ماخوذاً  مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی