ہوتا کہ پلىٹ مىں کتنی بَریانی آتی ہےالبتہ انہیں ریٹ کا پتا ہوتا ہے ۔ (امیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : ) پلىٹ مىں بھى چالاکى ہوتی ہے وہ یہ کہ میں نے کسی دور میں دیکھا تھا کہ چائے کے کپ کے ساتھ جو پلیٹ ہوتی ہے اُسے بَریانی کی پلیٹ کے اندر اُلٹی کر کے رکھتے ہىں اور پھر اس پر بَرىانى ڈالتے ہىں اور اس کو جماتے ہىں جس کے باعِث بندہ سمجھتا ہے کہ بَریانی سے پلیٹ بھرى ہوئى ہے اورجب ىہ کھاتا ہے تو نىچے سے پلىٹ نکلتى ہے ۔ اب ہوسکتا ہے اَنداز بدل گىا ہومگر پہلے یہ انداز تھا ۔ اِس صورت میں جىسے ہم کو پتا ہوتا تھا کہ اندر سے پلىٹ نکلے گی اِسی طرح اگر گاہک کو بھى پتا ہے کہ پلیٹ نکلے گی اور دىنے والے کو بھى پتا ہے تو جائز ہے اور اگر گاہک کو پتا نہىں ہے اور اس کو بیچنے والے نے بَریانی کی پلیٹ دِکھائى کہ دىکھو تمہیں اتنی ساری بَرىانى ملے گی تو ىہ دھوکا ہوگا لہٰذا بیچنے والوں کو چاہیے کہ گاہکوں کو بتا دىں کہ خوبصورتى لانے کے لىے بَریانی کی پلیٹ کے اندر چائے کى پلىٹ رکھى ہوئى ہے ۔ پہلے اِس طرح ہوتا مىں نے دىکھا تھا اب شاىد ایسا نہ ہوتا ہوگا کیونکہ New Generation(یعنی نئی نسل) کو اس کے بارے میں پتا ہى نہىں ہے ۔
سَفرِ بغداد کا تذکرہ
سُوال : آپ نے کب اور کتنى بار بغداد شرىف حاضِرى دی ؟ نیز اپنے سفرِ بغداد کا تَذکرہ بھی بیان فرما دیجیے ۔