Brailvi Books

قسط22: کیا جنَّت میں والدین بھی ساتھ ہوں گے؟
19 - 47
 لکھا ہے ۔ (1)تجربہ ہے کہ بعض لوگ  ایسے ہوتے  ہیں جن کی چھینک آنے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ نہ کہنے کی عادت پکی ہو جاتی ہے اگر انہیں بار بار بولو تب بھی وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ نہیں کہتے ۔ چھینک کا جواب دینا اتنی آواز سے کہ چھینکنے والا سُن لے واجب ہے اگر کوئی نہیں دے گا تو گناہ گار ہو گا ۔ (2) مگر لوگ  جواب نہىں  دىتے اور نہ ہی اُنہیں اس کے بارے میں پتا ہوتا ہے ۔  مىرے مُرشِد غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاقکو ماں کے پىٹ مىں بھی چھینک کے جواب کا  پتا تھا حالانکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پر ىہ واجب بھى نہىں تھا   کہ  نابالغ پر واجب نہیں ہوتا ، نابالغ ہی کیا غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق تو ابھی ماں کے پىٹ مىں ہی  تھے، ىہ غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کی  کرامت تھی اور اللہ پاک کی طرف سے  یہ بتانا تھا  کہ آنے والا کوئى عام شخص نہىں بلکہ  ولىوں کا سردار ہے ۔  بہرحال جب چھىنک آئے تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا چاہیے اور جو مسلمان اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  سُنے تو اس  پر ” یَرْحَمُکَ اللہ“کہنا واجب ہو جائے گا ۔   
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا افضل دُعا ہے
حمد بیان کرنے کے لیے  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا نہایت ہی جامع ہے اور ا س کے بارے میں حدىثِ پاک مىں فرمایا گىا : اَفْضَلُ الدُّعَاءِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہیعنی اَفضل دُعا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ



________________________________
1 -   خزائن العرفان، پ۱، الفاتحہ، تحت الآیۃ  : ۱، ص۳مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی 
2 -   ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحة، فصل فی البیع، ۹ / ۶۸۳ ملتقطاً  دار المعرفة بیروت