Brailvi Books

قسط21: مسلمان کے جوٹھے میں شِفا
9 - 41
جُوٹھا کھانے پینے میں تکبر اور غُربت کا عِلاج
سُوال: کىا مسلمان کے  جُوٹھے کی اس کے عِلاوہ اور بھی کوئی فضیلت ہے؟ (1) 
جواب:بعض لوگ اپنے مسلمان بھائى کا جُوٹھا کھانے پینے میں مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ گِھن کھاتے ہىں حالانکہ اپنے مسلمان بھائى کا جُوٹھا کھانا پىنا عاجزى والا کام ہے۔ لہٰذا مسلمان کے جوٹھے کھانے پینے سے شرمانے اور گِھن کھانے کے بجائے اسے اِستعمال کر لینا چاہیے۔ اگر سب مسلمان ایک دوسرے کا جُوٹھا کھا پی لینے کی عادت بنا لیں تو ہمارے مُعاشرے سے تنگدستى اور غُربت میں  اچھی خاصی کمی  آ جائے۔ لوگوں کو وافر مِقدار مىں کھانا ملے گا اور مہنگائى پر بھی کنٹرول ہو گا کیونکہ مہنگائی اُس وقت ہوتی ہے جب خرىداری زیادہ کی جاتی ہے،جب لوگ خرىدارى کم  کریں گے تو دکانوں پر  اسٹاک پڑا  رہے گا، بکے گا نہىں تو پھر ىہ سستا کرىں گے۔ (2) بہرحال اللہ پاک اور اس کے رَسُول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اَحکامات پر عمل کرنے مىں ہی  دِىنی و دُنىوی فَوائد ہیں۔ اللہ کرے دِل مىں اُتر جائے مىرى بات۔  



________________________________
1 -    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
2 -    حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم اپنے مُریدوں سے کھانے کی اَشیا  کے بھاؤ پوچھا کرتے تو آپ سے کہا جاتا : ان کی قیمتیں حَد سے بڑھ گئی ہیں ۔ اِرشاد فرماتے : انہیں خریدنا چھوڑ دو خود  ہی سستی ہو جائیں گی ۔  (احیاء العلوم، کتاب کسر الشھوتین، بیان فوائد الجوع  وآفات الشبع، ۳ / ۱۰۸ دار صادر بیروت )