Brailvi Books

قسط21: مسلمان کے جوٹھے میں شِفا
37 - 41
اچار خراب ہو جائے تو اس کا کیا کرنا چاہیے؟
سُوال :اگر  اچار خراب ہو جائے تو اس کا کىا کرنا  چاہىے؟(ایک اچار بیچنے والے کا سُوال) 
جواب:کھٹی چیز جلدی خراب ہوتی ہے،چونکہ اچار بھی کھٹا ہوتا ہے اس لىے ىہ جلدى خراب ہو سکتا ہے۔ دال بھی جلدى خراب ہوتى ہے کہ اس مىں ٹماٹر ہوتے ہیں۔ اگر ٹماٹر نہ ہوں تو دىر مىں خراب ہو گى۔ کھچڑا بھی جلد ناراض ہو جاتا ہے  کىونکہ اس مىں بھى اس طرح کى کھٹی چىزىں ڈالی جاتی ہىں ۔ بہرحال اگر اچار خراب ہو جائے تو اس کا وہیں کچھ کیا جائے جو کھانے کے خراب ہونے پر کیا جاتا ہے مثلاً جب بَرىانى خراب ہوتی ہے تو عموماً اس میں گوشت خراب نہىں ہوتا لہٰذا گوشت سمیت برىانى پھىنکنے کى شرعاً اِجازت نہىں ہو گى لہٰذا بَرىانى سے گوشت چھانٹى کرلىں اور پھر اس کو دھو کر اِستعمال  کرىں ۔ تو یوں ہی اچار میں سے وہ چیزیں چُن لی جائیں جو ابھی خراب نہیں ہوئیں۔ 
اگر اچار خراب ہو گیا اور کھانے کے قابل نہ رہا تو اس کا کھانا ناجائز ہے۔ عموماً جانور اچار نہىں کھاتے لیکن اگر کوئی جانور کھالے تو اسے کھلانے میں حرج نہیں البتہ اگر اُسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اب نہیں کھلا سکتے۔ 
خراب اَچار بیچنا کیسا؟
سُوال:کیا خراب اچار سستے دام یا آدھی قیمت پر بیچ سکتے ہیں ؟
جواب:خراب اچار دھوکے سے بیچیں گے تو  گناہ گار ہوں گے۔ اگر کوئی  دُکاندار خراب